،تصویر کا کیپشن پاکستان عوامی تحریکِ کا انقلاب مارچ 16اگست کو اسلام آباد پہنچا تھا اور اب تک مظاہرین ریڈ زون میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین کو موسم کی سختیاں بھی جھیلنے پڑ رہیں ہیں پہلے سخت دھوپ اور گرمی اور اب بارش اور سردی کا سامنا ہے۔
،تصویر کا کیپشندھرنے میں شریک مطاہرین کے ساتھ بچوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنیچر 30 اگست کی رات وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی کے بعد مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی اور اب مظاہرین ڈنڈے اور پتھر لیے ہر وقت کسی کشیدگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہیں۔
،تصویر کا کیپشن30 اگست کی پیش قدمی کے بعد مظاہرین کی بڑے تعداد پارلیمنٹ کے احاطے میں موجود تھی تاہم بارش کے باعث زمین نم رہنے لگی ہے اس لیے لوگ واپس شاہراہِ دستور کی جانب آ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناحتجاج کے منتظمین مظاہرین کو حلوہ تقسیم کر رہے ہیں جو شاید پیٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی ٹھنڈ میں بھی کافی مددگار ثابت ہو گا۔
،تصویر کا کیپشنموسم کی ستم ظریفی سہنے والے مظاہرین میں بزرگ بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے مظاہرین میں خواتین کی بڑی تعداد ہے جو لاہور سے انقلاب مارچ کے ہمراہ آئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگو کہ عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری دھرنے کے شرکا سے کہہ چکے ہیں کہ روزگار نہ ہونے اور موسم اور گھریلو پریشانیوں کے باعث اگر لوگ واپس جانا چاہیں تو چلے جائیں۔ لیکن اب بھی مظاہرین کی اکثریت شاہراہِ دستور پر ہی موجود ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے پارلیمان کے سبزہ زار اور سیکریٹیریٹ چوک کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے تاہم انھیں شاہراہ دستور پر ڈی چوک اور کابینہ ڈویژن کے چوک میں جمع ہونے کے لیے کہاگیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنجے سالک بھی انقلاب اور آزادی مارچ کے شرکا کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کے لیے وہاں موجود رہے۔