اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد غزہ کے حالاتِ زندگی
،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے مصر میں مذاکرات کے بعد حماس اور اسرائیک کے درمیان طویل المدتی جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے بعد لوگوں نے غزہ میں اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتاہم شدید بمباری کے بعد غزہ میں بظاہر مکانات کم اور ان کا ملبہ زیادہ نظر آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنواپس آنے والے شہریوں کو ایک بڑا مسئلہ بجلی اور پانی کی فراہمی کا ہوگا۔ اسرائیل کی فضائی بمباری کے نتیجے میں دونوں نظام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنگ بندی کے بعد اسرائیل نے غزہ میں باہر سے گھروں کے لیے آنے والے تعمیراتی سامان پر سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ تباہی کا موجودہ تناسب اتنا ذیادہ ہے کہ غزہ کو دوبارہ رہنے کے قابل بنانے کے لیے 15 سال لگ سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے نتیجے میں دو ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ فلسطینی شہری تھے۔
،تصویر کا کیپشنان تباہ شدہ مکانات میں لوگوں کے لیے اب آرام کرنے کے علاوہ کچھ زیادہ باقی نہیں رہا۔
،تصویر کا کیپشنِخوراک کی کمی کے باعث زیادہ تر لوگوں نے سمندر کا رخ کیا ہے جہاں صبح سے شام تک لوگ مچھلیاں پکڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشام کو مچھلیوں کے شکار سے تھک ہار کر نوجوان سمندر کے کنارے بیٹھ کر تھکن اتارتے ہیں اور شاید یہ سوچتے ہیں کہ جنگ بندی شاید کب تک برقرار رہتی ہے۔