اسلام آباد کے ریڈ زون میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں
،تصویر کا کیپشنمظاہرین ایک بار پھر ٹولیوں کی شکل میں وزیرِ اعظم ہاؤس کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں جنھیں روکنے کے لیے پولیس آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے سیونتھ ایوینیو اور جناح ایوینیو کے پل پر موجود مظاہرین آنے جانے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے ہیں اور پل کے کناروں پر لگے بورڈز اور ٹین کی چادریں نیچے پھینک کر راستہ بلاک کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے ریڈ زون میں پاکستان عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی وقفے وقفے سے جاری ہیں۔
،تصویر کا کیپشنریڈ زون جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد تین ہو گئی ہے اور زخمیوں کی کُل تعداد 475 ہے
،تصویر کا کیپشنمظاہرین پولیس کے خلاف ڈنڈوں، کنچوں اور غلیل کا استعمال کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناب ان جھڑپوں کا مرکز پاک سیکریٹریٹ کا علاقہ بنا ہوا ہے اور پولیس کی بھاری نفری مظاہرین کو وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب جانے سے روکنے کے لیے تعینات ہے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین پولیس پر پتھراؤ کے علاوہ غلیلوں سے بنٹے مار رہے ہیں جبکہ پولیس جواباً شیلنگ کر رہی ہے جس کی شدت جائے وقوع سے کئی کلومیٹر دور تک محسوس کی جا سکتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنرات کو پارلیمان کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد اس کے سبزہ زار میں بیٹھ جانے والے مظاہرین فوج کی جانب سے علاقہ خالی کرنے کے اعلانات کے بعد اب آہستہ آہستہ واپس باہر نکل رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اور پاکستان تحریکِ انصاف مل کر ملک کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف ’دہشت گردی اور اقدامِ قتل‘ کے مقدمات درج کروائیں گے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ اب حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
،تصویر کا کیپشنآئی جی اسلام آباد پولیس خالد خٹک کا کہنا ہے کہ اب تک 100 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنریڈ زون میں مظاہرین کہاں ہیں اور سکیورٹی اہلکار کہاں ہیں۔ سمجھیں نقشے کی مدد سے