بھارت میں ٹوائلٹ صاف کرنے والوں کی حالتِ زار

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارت سے اپیل کی ہے کہ ہاتھوں سے فضلہ اٹھانے کا کام بند کیا جانا چاہیے۔

بھارت میں ’نچلی ذات‘ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ لوگوں کے بیت الخلا سے گندگی صاف کر کے اسے ٹوکریوں میں جمع کر کے اس گندگی کو آبادی سے دور لیجا تے ہیں۔کسیلا گاؤں کی گنگا شری انھیں لوگوں میں سے ایک ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں ’نچلی ذات‘ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ لوگوں کے بیت الخلا سے گندگی صاف کر کے اسے ٹوکریوں میں جمع کر کے اس گندگی کو آبادی سے دور لیجا تے ہیں۔کسیلا گاؤں کی گنگا شری انھیں لوگوں میں سے ایک ہیں۔
اترپردیش کے کسیلا گاؤں میں ہاتھوں سے بیت الخلا صاف کرنے کی یہ روایت بہت پرانی ہے جہاں ابھی تک فلش سسٹم موجود نہیں ہے۔اس علاقے میں اس طرح کا کام کرنے والوں کو آج بھی ’اچھوت‘ سمجھا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناترپردیش کے کسیلا گاؤں میں ہاتھوں سے بیت الخلا صاف کرنے کی یہ روایت بہت پرانی ہے جہاں ابھی تک فلش سسٹم موجود نہیں ہے۔اس علاقے میں اس طرح کا کام کرنے والوں کو آج بھی ’اچھوت‘ سمجھا جاتا ہے۔
منیشا اترپردیش کے منی پوری ضلع میں رہتی ہیں اور ہر روز کم از کم 20 گھروں کے پاخانے صاف کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک جھاڑو اور پلیٹ سے لوگوں کا فضلہ اٹھاتی ہیں اور یہ کام اتنا گندا ہے کہ ان کا کھانا کھانے کا بھی دل نہیں کرتا۔
،تصویر کا کیپشنمنیشا اترپردیش کے منی پوری ضلع میں رہتی ہیں اور ہر روز کم از کم 20 گھروں کے پاخانے صاف کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک جھاڑو اور پلیٹ سے لوگوں کا فضلہ اٹھاتی ہیں اور یہ کام اتنا گندا ہے کہ ان کا کھانا کھانے کا بھی دل نہیں کرتا۔
ریاست کے ایٹہ ضلع کی مُنی دیوی کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے اس کام کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا اور اکثر لوگ انھیں دو روٹیاں دے دیتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ کبھی کبھی تو لوگ انھیں روٹی تک نہیں دیتے اور اگر ایسے میں یہ کام نہ کریں تو انھیں دھمکیاں دی جاتی ہیں تو انھیں مجبوراً بغیر کسی معاوضے کے بھی کام کرنا پڑتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنریاست کے ایٹہ ضلع کی مُنی دیوی کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے اس کام کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا اور اکثر لوگ انھیں دو روٹیاں دے دیتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ کبھی کبھی تو لوگ انھیں روٹی تک نہیں دیتے اور اگر ایسے میں یہ کام نہ کریں تو انھیں دھمکیاں دی جاتی ہیں تو انھیں مجبوراً بغیر کسی معاوضے کے بھی کام کرنا پڑتا ہے۔
مہاراشمر کے دھولے ضلع کے انل کا کہنا ہے کہ پنچایت پانی کی سپلائی، کوڑا اٹھانے، اور پیغام رسانی کے لیے لوگوں کو بھرتی کرتی ہے اور اگر آپ کا تعلق مہتار ذات سے ہے تو آپ کو لوگوں کے بیت الخلا صاف کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمہاراشمر کے دھولے ضلع کے انل کا کہنا ہے کہ پنچایت پانی کی سپلائی، کوڑا اٹھانے، اور پیغام رسانی کے لیے لوگوں کو بھرتی کرتی ہے اور اگر آپ کا تعلق مہتار ذات سے ہے تو آپ کو لوگوں کے بیت الخلا صاف کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
راجو بائی کا کہنا ہے کہ گاؤں کی پنچایت نے بیت الخلا اور گٹر صاف کرنے کے لیے انھیں اور ان کے خاندان کوگاؤں سے یہاں بھیج دیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گاؤں واپس جانا چاہتی ہیں کیونکہ اس کام کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہوتی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنراجو بائی کا کہنا ہے کہ گاؤں کی پنچایت نے بیت الخلا اور گٹر صاف کرنے کے لیے انھیں اور ان کے خاندان کوگاؤں سے یہاں بھیج دیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گاؤں واپس جانا چاہتی ہیں کیونکہ اس کام کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے لوگوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’راشٹریہ گریما ابھیان‘ نے اس طرح کے 11 ہزار لوگوں کی مدد کی ہے۔ ریاست مدھیہ پردیش کی سیوانتی بھی انھیں میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ہمیں کہا جاتا تھا کہ ہمیں یہ کام کرنا ہی ہوگا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشنایسے لوگوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’راشٹریہ گریما ابھیان‘ نے اس طرح کے 11 ہزار لوگوں کی مدد کی ہے۔ ریاست مدھیہ پردیش کی سیوانتی بھی انھیں میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ہمیں کہا جاتا تھا کہ ہمیں یہ کام کرنا ہی ہوگا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
ریاست مدھیہ پردیش کی سہینہ نے بتایا کہ سکول میں کھانے کے وقت انھیں دوسری لڑکیوں سے علیحدہ بٹھایا جاتا تھا لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے اس برتاؤ کے خلاف بولنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے امتحان میں ان کے نمبر کم آنے لگے اور انھوں نے سکول چھوڑ دیا۔
،تصویر کا کیپشنریاست مدھیہ پردیش کی سہینہ نے بتایا کہ سکول میں کھانے کے وقت انھیں دوسری لڑکیوں سے علیحدہ بٹھایا جاتا تھا لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے اس برتاؤ کے خلاف بولنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے امتحان میں ان کے نمبر کم آنے لگے اور انھوں نے سکول چھوڑ دیا۔
راہل کا تعلق بھی اسی ذات سے ہے ان کا کہنا ہے ک ایک مرتبہ صرف اس لیے انھیں مارا پیٹا گیا کیونکہ انھوں نے ’اونچی ذات‘ کے ایک لڑکے کی بال کو چھو لیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنراہل کا تعلق بھی اسی ذات سے ہے ان کا کہنا ہے ک ایک مرتبہ صرف اس لیے انھیں مارا پیٹا گیا کیونکہ انھوں نے ’اونچی ذات‘ کے ایک لڑکے کی بال کو چھو لیا تھا۔
’راشٹریہ گریما ابھیان‘ کے بانی آصف شیخ کا کہنا ہے کہ لوگوں کا فضلہ سر پر دھونا کوئی روزگار نہیں بلکہ ایک طرح کی غلامی اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔
،تصویر کا کیپشن’راشٹریہ گریما ابھیان‘ کے بانی آصف شیخ کا کہنا ہے کہ لوگوں کا فضلہ سر پر دھونا کوئی روزگار نہیں بلکہ ایک طرح کی غلامی اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔
سناجبی پہلے فضلہ اٹھانے کا کام کیا کرتی تھیں لیکن 2008 میں انہیں ’راشٹریہ گریما ابھیان‘ اس کام سے چھٹکارہ مل گیا۔ 2010 میں انھوں نے خواتین کے لیے مخصوص نشست سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور اپنے علاقے میں مناسب ٹوائلٹ اور ڈرین بنوائے۔
،تصویر کا کیپشنسناجبی پہلے فضلہ اٹھانے کا کام کیا کرتی تھیں لیکن 2008 میں انہیں ’راشٹریہ گریما ابھیان‘ اس کام سے چھٹکارہ مل گیا۔ 2010 میں انھوں نے خواتین کے لیے مخصوص نشست سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور اپنے علاقے میں مناسب ٹوائلٹ اور ڈرین بنوائے۔
ممتا نے بتایا کہ 10 سال پہلے ان کے خاندان نے یہ کام چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اور ان کے گھر والے مچھلیاں پکڑنے کا کام کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنممتا نے بتایا کہ 10 سال پہلے ان کے خاندان نے یہ کام چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اور ان کے گھر والے مچھلیاں پکڑنے کا کام کرتے ہیں۔