اسلام آباد میں ریڈ زون میں داخلے اور عوامی پارلیمان کی تیاریاں
،تصویر کا کیپشنآزادی مارچ کی جانب سے منگل کی شام ریڈ زون میں داخلے اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے ’عوامی پارلیمان‘ کے اعلانات کے بعد وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعداد 35 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ریڈ زون کی حفاظت کے لیے تین تہوں کا حصار قائم کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنآزادی اور انقلاب مارچ میں شریک افراد کا سب سے من پسند نعرہ ’گو نواز گو‘ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتحریکِ انصاف کے سربراہ کی جانب سے ریڈ زون میں داخلے کے اعلانات کے بعد پی ٹی آئی کے دھرنے کے شرکا کے جوش میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
،تصویر کا کیپشناس موقعے پر اسلام آباد میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، جنھوں نے کسی بھی بلوے سے نمٹنے کے لیے انتظامات کر رکھے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشہر بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس جگہ جگہ گاڑیوں کی چیکنگ کر رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنعمران خان کے آزادی مارچ میں حصہ لینے کے لیے پاکستانی کرکٹ کے جانے پہچانے شائق چاچا کرکٹ بھی اسلام آباد میں نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشنریڈ زون میں حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے پولیس، رینجرز اور فوج کے دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی اسلام آباد طلب کر لی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنطاہر القادری اور عمران خان دونوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منگل کو اسلام آباد کا رخ کریں۔
،تصویر کا کیپشنطاہر القادری کے حامی اب تک اس لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران زیادہ نظم و ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیے ہیں۔