مارچ اسلام آباد کی جانب گامزن، اسلام آباد میں کارکن جمع ہونا شروع اور پولیس کی تیاریاں
،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ جمعرات کو لاہور سے شروع ہوا تھا تاہم اس مارچ کی رفتار کافی سست ہے اور جمعے کی رات کو لاہور سے تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع گوجرانوالہ شہر پہنچ سکا اور مارچ نے رات اسی شہر میں قیام کیا۔
،تصویر کا کیپشنتحریکِ انصاف کا لانگ مارچ جمعرات کو تقریباً 11 بجے دن کو لاہور کے زمان پارک سے شروع ہوا اور رات تک لاہور شہر میں ہی گھومتا رہا۔ لانگ مارچ کی سست رفتار پر حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے بیانات دیے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں لوگوں کی تعداد کم ہے اور اسی وجہ سے لوگوں کو اکھٹا کرنے کے لیے تاخیر کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنشاید اسی وجہ سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرس میں کہا تھا کہ تحریک انصاف نے اسلام آباد 10 لاکھ لوگ لانے کا اعلان کیا ہے اور حکومت نے بھی اتنے ہی لوگوں کا انتظام کر رکھا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلانگ مارچ کے راستوں پر تحریک انصاف جمع ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جمعے کی شام کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیا ہے تاہم مارچ کی رفتار کو دیکھ کر ایسا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگوجرانوالہ میں رات قیام کے بعد تحریک انصاف کا مارچ جب اسلام آباد کی جانب دوبارہ روانہ ہوا تو شہر کے وسط میں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم ہو گیا۔ فریقین ایک دوسرے پر پہل کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ تصادم کا وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا تاہم جلوس نے تقریباً دو کلومیٹر کا سفر ہی طے کیا ہو گا کہ ایک بار پھر مشتعل ہجوم اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم ہو گیا۔
،تصویر کا کیپشنصوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ صوبے کے وزیراعلیٰ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ہی ایک جلوس کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔ وزیراعلیٰ تو شاید قیام کے لیے خیبر ہاؤس چلے گئے تاہم کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شہر کے زیرو پوائنٹ پر رات گزاری۔
،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف کی قیادت نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ لانگ مارچ کے دوران اپنے کارکنوں کے ساتھ ہی سڑکوں پر احتجاج اور وہیں ہی نیند پوری کریں گے۔
،تصویر کا کیپشنجمعرات کو حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دینے کی اطلاعات ملنا شروع ہوئیں تو اس وقت ہی زیروپوائنٹ پر کارکن جمع ہونا شروع ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں گذشتہ کئی دنوں سے سکیورٹی کے سخت انتطامات ہیں۔ تقریباً ہر اہم سڑک پر پولیس اہلکار تعینات ہیں اور اس کے علاوہ سڑکوں کے کنارے کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر سڑکوں کو کنٹینرز کی مدد سے بند بھی کیا گیا ہے۔