دمدار ستاروں کا قریبی نظارہ

یورپ کی خلائی جہاز ’روزیٹا‘ 67 پی چرنیوموف جیراسیمینکو نامی دمدار ستارے تک قریب پہنچ گیا ہے جو کسی بھی دمدار ستارے کے اتنے سے قریب سے کیا گیا پہلا مطالعہ ہوگا لیکن ماضی پانچ دیگر دمدار ستاروں کو بھی قریب سے دیکھا گیا ہے۔

یورپی خلائی جہاز ’روزیٹا‘ 67 پی تک قریب پہنچ گیا ہے جو کسی بھی دمدار ستارے کے اتنے سے قریب سے کیا گیا پہلا مطالعہ ہوگا۔ اس کو خلائی جہاز سے تین اگست کو 300 کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھا گیا تھا۔ یہ دمدار ستارہ تقریباً چار کلو میٹر چوڑا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیورپی خلائی جہاز ’روزیٹا‘ 67 پی تک قریب پہنچ گیا ہے جو کسی بھی دمدار ستارے کے اتنے سے قریب سے کیا گیا پہلا مطالعہ ہوگا۔ اس کو خلائی جہاز سے تین اگست کو 300 کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھا گیا تھا۔ یہ دمدار ستارہ تقریباً چار کلو میٹر چوڑا ہے۔
خلائی جہاز جیوٹو سنہ مارچ سنہ 1986 میں مشہور دمدار ستارے پی 1 یا ہیلی کے دمدار ستارے کے 600 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گیا تھا۔ یہ دمدار ستارہ تقریباً 15 کلومیٹر چوڑا تھا۔ یہ تصویر رنگین کیمرے سے لی گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنخلائی جہاز جیوٹو سنہ مارچ سنہ 1986 میں مشہور دمدار ستارے پی 1 یا ہیلی کے دمدار ستارے کے 600 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گیا تھا۔ یہ دمدار ستارہ تقریباً 15 کلومیٹر چوڑا تھا۔ یہ تصویر رنگین کیمرے سے لی گئی تھی۔
ہیلی کا دمدار ستارہ اپنی مخصوص شکل کی وجہ سے رات کی تاریکی میں جانی پہچانی شکل ہے۔ کئی خلائی جہاز دور دور سے اس دمدار ستارے کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اس کی یہ تصویر سنہ 1910 میں پیرو میں لی گئی تھی۔ اس کو صدیوں تک زمین سے دیکھا جاتا رہا ہے اور یہ ستارہ آئندہ سنہ 2061 میں نظر آئے گا۔
،تصویر کا کیپشنہیلی کا دمدار ستارہ اپنی مخصوص شکل کی وجہ سے رات کی تاریکی میں جانی پہچانی شکل ہے۔ کئی خلائی جہاز دور دور سے اس دمدار ستارے کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اس کی یہ تصویر سنہ 1910 میں پیرو میں لی گئی تھی۔ اس کو صدیوں تک زمین سے دیکھا جاتا رہا ہے اور یہ ستارہ آئندہ سنہ 2061 میں نظر آئے گا۔
ڈیپ سپیس مشن1 سنہ 2001 میں دمدار ستارے پی 19 بوریلی کے پاس سے گزرا تھا اور اس نے اس کے دائیں جانب سے 3000 کلومیٹر کے فاصلے سے تصویر لی تھی جس میں ستارے کی سطح دکھائی دی اور جو اس وقت کسی بھی دمدار ستارے کی واضح ترین تصویر تھی۔
،تصویر کا کیپشنڈیپ سپیس مشن1 سنہ 2001 میں دمدار ستارے پی 19 بوریلی کے پاس سے گزرا تھا اور اس نے اس کے دائیں جانب سے 3000 کلومیٹر کے فاصلے سے تصویر لی تھی جس میں ستارے کی سطح دکھائی دی اور جو اس وقت کسی بھی دمدار ستارے کی واضح ترین تصویر تھی۔
ناسا کا سٹار ڈسٹ جہاز سنہ 2004 میں دمدار ستارے پی 81 کے قریب سے گزرا تھا اور ستارے کی پیدا کردہ گیسوں کے بادلوں کے نمونے بھی لیے تھے۔یہ تصویر دمدار ستارے سے تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے سے لی گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنناسا کا سٹار ڈسٹ جہاز سنہ 2004 میں دمدار ستارے پی 81 کے قریب سے گزرا تھا اور ستارے کی پیدا کردہ گیسوں کے بادلوں کے نمونے بھی لیے تھے۔یہ تصویر دمدار ستارے سے تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے سے لی گئی تھی۔
ڈیپ ایمپیکٹ مشن نے جولائی سنہ 2005 میں کامیابی کے ساتھ اپنا 379 کلو گرام کا وزن والا آلہ ’امپیکٹر‘ دمدار ستارے پی 9 ٹیمپل میں دے مارا تاکہ اس کی ہیئت کے بارے میں جانا جا سکے۔ اس ٹکراؤ کے 67 سیکنڈ کے بعد یہ شاندار تصویر لی گئی جس میں بکھری ہوئی روشنی دکھائی دیتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈیپ ایمپیکٹ مشن نے جولائی سنہ 2005 میں کامیابی کے ساتھ اپنا 379 کلو گرام کا وزن والا آلہ ’امپیکٹر‘ دمدار ستارے پی 9 ٹیمپل میں دے مارا تاکہ اس کی ہیئت کے بارے میں جانا جا سکے۔ اس ٹکراؤ کے 67 سیکنڈ کے بعد یہ شاندار تصویر لی گئی جس میں بکھری ہوئی روشنی دکھائی دیتی ہے۔
ٹیمپل سے ٹکر سے پہلے وزنی آلے امپیکٹر نے اس کی یہ تصویر لی تھی۔ اس وقت امپیکٹر کی رفتار دس کلومیٹر فی سیکنڈ تھی۔
،تصویر کا کیپشنٹیمپل سے ٹکر سے پہلے وزنی آلے امپیکٹر نے اس کی یہ تصویر لی تھی۔ اس وقت امپیکٹر کی رفتار دس کلومیٹر فی سیکنڈ تھی۔
سٹار ڈسٹ نے ٹیمپل کی یہ خوبصورت تصاویر سنہ 2012 میں لی تھیں۔ اس مشن کو اس دمدار ستارے پر پانی کے شواہد ملے تھے۔
،تصویر کا کیپشنسٹار ڈسٹ نے ٹیمپل کی یہ خوبصورت تصاویر سنہ 2012 میں لی تھیں۔ اس مشن کو اس دمدار ستارے پر پانی کے شواہد ملے تھے۔