الیکٹرانک کباڑ

کولکتہ میں ناکارہ برقی آلات کا کاروبار پھیل رہا ہے

بھارتی شہر کولکتہ میں کباڑی سالانہ ٹنوں کے حساب سے بےکار برقی آلات جمع کرتے ہیں۔ یہ کباڑی کندھوں پر بوریاں لے کر پھرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارتی شہر کولکتہ میں کباڑی سالانہ ٹنوں کے حساب سے بےکار برقی آلات جمع کرتے ہیں۔ یہ کباڑی کندھوں پر بوریاں لے کر پھرتے ہیں۔
پھینکے گئے برقی آلات سے کارآمد پرزے نکال لیے جاتے ہیں جنھیں کولکتہ میں سڑک کے کنارے واقع دکانوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپھینکے گئے برقی آلات سے کارآمد پرزے نکال لیے جاتے ہیں جنھیں کولکتہ میں سڑک کے کنارے واقع دکانوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔
عام طور پر کمپیوٹر کے استعمال شدہ مانیٹروں کی پکچر ٹیوبوں سے مقامی سطح پر سستے ٹی وی سیٹ بنائے جاتے ہیں جنھیں پھر چاندنی چوک میں بیچا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنعام طور پر کمپیوٹر کے استعمال شدہ مانیٹروں کی پکچر ٹیوبوں سے مقامی سطح پر سستے ٹی وی سیٹ بنائے جاتے ہیں جنھیں پھر چاندنی چوک میں بیچا جاتا ہے۔
بھارت میں سالانہ 270000 ٹن برقی آلات کا کباڑ جمع ہوتا ہے کیونکہ لوگ ٹی وی، کمپیوٹر اور سمارٹ فون کے نئے ماڈل خریدتے ہیں اور اپنے پرانے آلات پھینک دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں سالانہ 270000 ٹن برقی آلات کا کباڑ جمع ہوتا ہے کیونکہ لوگ ٹی وی، کمپیوٹر اور سمارٹ فون کے نئے ماڈل خریدتے ہیں اور اپنے پرانے آلات پھینک دیتے ہیں۔
سنگرام پور برقی آلات کی کباڑ کا بڑا مرکز ہے۔ وہاں تقریباً ہر گھر پرانے کمپیوٹروں، ٹی وی سیٹوں اور موبائل فونز کو توڑنے کے کاروبار میں حصہ دار ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنگرام پور برقی آلات کی کباڑ کا بڑا مرکز ہے۔ وہاں تقریباً ہر گھر پرانے کمپیوٹروں، ٹی وی سیٹوں اور موبائل فونز کو توڑنے کے کاروبار میں حصہ دار ہے۔
سنگرام میں گھروں کے اندر برقی آلات کے کباڑ کے انبار نظر آنا عام سی بات ہے۔ یہاں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی برقی آلات کے کباڑ کے اردگرد گھومتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنگرام میں گھروں کے اندر برقی آلات کے کباڑ کے انبار نظر آنا عام سی بات ہے۔ یہاں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی برقی آلات کے کباڑ کے اردگرد گھومتی ہے۔
کوچیمی منی اپنے مٹی کے گھر کے باہر بیٹھے برقی آلات کے کباڑ کو ٹٹول رہے ہیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کباڑ اکثر زہریلا اور اس کا کام کرنے والوں کے لیے مضرِ صحت ہوتا ہے۔ لیکن اس کے مضر ہونے کے بارے میں لاعلمی اور بغیر کسی سرمایے کے اس میں زیادہ منافعے کی وجہ سے مزید لوگ اس کاروبار میں شامل ہو رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکوچیمی منی اپنے مٹی کے گھر کے باہر بیٹھے برقی آلات کے کباڑ کو ٹٹول رہے ہیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کباڑ اکثر زہریلا اور اس کا کام کرنے والوں کے لیے مضرِ صحت ہوتا ہے۔ لیکن اس کے مضر ہونے کے بارے میں لاعلمی اور بغیر کسی سرمایے کے اس میں زیادہ منافعے کی وجہ سے مزید لوگ اس کاروبار میں شامل ہو رہے ہیں۔