معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کا ریکارڈ اب آن لائن

لنگوروں کی زندگی

امریکہ میں 50 برس سے معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی چار ہزار کے قریب نسلوں کی زندگیوں کا ریکارڈ محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اب اس ریکارڈ کو کاغذ سے کمپیوٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس میں جانوروں کی پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک کے واقعات کی تصاویر شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں 50 برس سے معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی چار ہزار کے قریب نسلوں کی زندگیوں کا ریکارڈ محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اب اس ریکارڈ کو کاغذ سے کمپیوٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس میں جانوروں کی پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک کے واقعات کی تصاویر شامل ہیں۔
زندگی کے مختلف ادوار میں لنگوروں (lemur) کا وزن کیا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کو توقع ہے کہ اس تحقیق سے ان جانوروں کے بارے میں لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہو گا اور لوگ ان کا زیادہ خیال رکھا کریں گے۔
،تصویر کا کیپشنزندگی کے مختلف ادوار میں لنگوروں (lemur) کا وزن کیا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کو توقع ہے کہ اس تحقیق سے ان جانوروں کے بارے میں لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہو گا اور لوگ ان کا زیادہ خیال رکھا کریں گے۔
یہ خاصا بوڑھا لنگور ہے جس کی عمر 29 برس ہے جو انسانی تحویل میں رکھے گئے اپنی نسل کے کسی بھی لنگور کی طویل ترین عمر کا ریکارڈ ہے۔ عام طور پر 25 سال کے بعد لنگوروں کی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ خاصا بوڑھا لنگور ہے جس کی عمر 29 برس ہے جو انسانی تحویل میں رکھے گئے اپنی نسل کے کسی بھی لنگور کی طویل ترین عمر کا ریکارڈ ہے۔ عام طور پر 25 سال کے بعد لنگوروں کی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے۔
ڈیوک لیمر سنٹر کے عملے کا پسندیدہ لنگور ایمور، جو 1981 میں پیدا ہوا تھا۔
،تصویر کا کیپشنڈیوک لیمر سنٹر کے عملے کا پسندیدہ لنگور ایمور، جو 1981 میں پیدا ہوا تھا۔
اس تحقیقی مرکز میں شامل بندروں کی مختلف نسلوں میں لیمر، لورس اور گلاگو شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس تحقیقی مرکز میں شامل بندروں کی مختلف نسلوں میں لیمر، لورس اور گلاگو شامل ہیں۔
نیلی آنکھوں والے سیاہ لنگور معدومی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ شمالی امریکہ میں صرف دو مادہ لنگور ہیں اور دونوں ڈیوک لیمر میں موجود ہیں۔ صرف نر لنگوروں کا رنگ عمر کے آٹھویں ہفتے میں سیاہ ہو جاتا ہے، جب کہ مادائیں بھوری رہتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشننیلی آنکھوں والے سیاہ لنگور معدومی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ شمالی امریکہ میں صرف دو مادہ لنگور ہیں اور دونوں ڈیوک لیمر میں موجود ہیں۔ صرف نر لنگوروں کا رنگ عمر کے آٹھویں ہفتے میں سیاہ ہو جاتا ہے، جب کہ مادائیں بھوری رہتی ہیں۔
یہ نیلی آنکھوں والے لنگوروں کا ایک خاندان ہے۔ نر جست لگا رہا ہے جب کہ مادہ اپنے بچے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ بچے کا رنگ سیاہ پڑ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ نیلی آنکھوں والے لنگوروں کا ایک خاندان ہے۔ نر جست لگا رہا ہے جب کہ مادہ اپنے بچے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ بچے کا رنگ سیاہ پڑ رہا ہے۔
لنگوروں کی ایک اور قسم سفاکا کہلاتی ہے۔ ڈیوک سینٹر میں 60 کے قریب سفاکا موجود ہیں۔ سفاکا دس میٹر (33 فٹ) لمبی چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ اس تصویر میں ڈروسلا نامی ایک مادہ اپنے بچے امیلیا کو اٹھائے ہوئے چھلانگ لگا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنلنگوروں کی ایک اور قسم سفاکا کہلاتی ہے۔ ڈیوک سینٹر میں 60 کے قریب سفاکا موجود ہیں۔ سفاکا دس میٹر (33 فٹ) لمبی چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ اس تصویر میں ڈروسلا نامی ایک مادہ اپنے بچے امیلیا کو اٹھائے ہوئے چھلانگ لگا رہی ہے۔
یہ بچہ 2011 میں پیدا ہوا تھا، اور اس کا نام ایلفابا رکھا گیا۔ فروری 2012 میں یہ پہلی بار اپنے ٹھکانے سے باہر نکلا۔
،تصویر کا کیپشنیہ بچہ 2011 میں پیدا ہوا تھا، اور اس کا نام ایلفابا رکھا گیا۔ فروری 2012 میں یہ پہلی بار اپنے ٹھکانے سے باہر نکلا۔
جڑواں دھاری دھار لنگور۔ ان کے نام لولو اور وِلو ہیں، اور یہ مارچ 2014 میں پیدا ہوئے تھے۔ اس تصویر میں انھیں ان کی ماں سپرائٹ اٹھا کر لے جا رہی ہے۔ ڈیوک لیمر سنٹر کا آن لائن ذخیرہ مستقبل میں ان جانوروں پر تحقیق کرنے والوں کے بہت کام آئے گا۔
،تصویر کا کیپشنجڑواں دھاری دھار لنگور۔ ان کے نام لولو اور وِلو ہیں، اور یہ مارچ 2014 میں پیدا ہوئے تھے۔ اس تصویر میں انھیں ان کی ماں سپرائٹ اٹھا کر لے جا رہی ہے۔ ڈیوک لیمر سنٹر کا آن لائن ذخیرہ مستقبل میں ان جانوروں پر تحقیق کرنے والوں کے بہت کام آئے گا۔