دہلی کے بھکاری

دہلی کی سڑکوں پر بھیک مانگتے بچے

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی سٹرکوں پر ایک اندازے کے مطابق 60 ہزار بھکاری نظر آتے ہیں۔ ان میں سے تین چوتھائی 18 سال سے کم عمر کے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے دارالحکومت دہلی کی سٹرکوں پر ایک اندازے کے مطابق 60 ہزار بھکاری نظر آتے ہیں۔ ان میں سے تین چوتھائی 18 سال سے کم عمر کے ہیں۔
غربت سے تنگ آ کر یہ بچے بھارت کے دیگر حصوں سے دارالحکومت نئی دہلی آ کر بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ بچے اپنے گھروں سے بھاگ کر آتے ہیں جبکہ دیگر اپنے خاندان کے ساتھ رہ کر بھیک مانگتے ہیں۔ بھارت میں بچوں کو خوراک اور تعلیم کے حقوق حاصل ہیں تاہم وہاں بھیک مانگنے والوں کی تعداد قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنغربت سے تنگ آ کر یہ بچے بھارت کے دیگر حصوں سے دارالحکومت نئی دہلی آ کر بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ بچے اپنے گھروں سے بھاگ کر آتے ہیں جبکہ دیگر اپنے خاندان کے ساتھ رہ کر بھیک مانگتے ہیں۔ بھارت میں بچوں کو خوراک اور تعلیم کے حقوق حاصل ہیں تاہم وہاں بھیک مانگنے والوں کی تعداد قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
یہ فقیر بچے بھارت کے مصروف بازاروں، ٹریفک کے اشاروں، ریلوے سٹیشنوں، بس سٹاپوں، میٹرو سٹین کے باہر، سب ویز، مذہبی جگہوں اور تفریحی مقامات پر دکھائی دیتے ہیں۔ مصروف جگہوں پر بھیک مانگنے سے انھیں زیادہ پیسہ کمانے کا موقع ملتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ فقیر بچے بھارت کے مصروف بازاروں، ٹریفک کے اشاروں، ریلوے سٹیشنوں، بس سٹاپوں، میٹرو سٹین کے باہر، سب ویز، مذہبی جگہوں اور تفریحی مقامات پر دکھائی دیتے ہیں۔ مصروف جگہوں پر بھیک مانگنے سے انھیں زیادہ پیسہ کمانے کا موقع ملتا ہے۔
متعدد غریب خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کمائی کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے اس لیے وہ اپنے بچوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسے بچے اپنے والدین کے ساتھ پرانی نئی دہلی میں واقع جامعہ مسجد کے باہر بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمتعدد غریب خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کمائی کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے اس لیے وہ اپنے بچوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسے بچے اپنے والدین کے ساتھ پرانی نئی دہلی میں واقع جامعہ مسجد کے باہر بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔
سونو اپنی والدہ کے ساتھ ایک سکھ گردوارے میں رہتا ہے جہاں وہ آنے والوں سے خیرات اور خوراک کا خواہش مند ہوتا ہے۔ سونو روزانہ 50 روپےکماتا ہے۔ سونو کا کہنا ہے کہ اسے اپنے والد کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشنسونو اپنی والدہ کے ساتھ ایک سکھ گردوارے میں رہتا ہے جہاں وہ آنے والوں سے خیرات اور خوراک کا خواہش مند ہوتا ہے۔ سونو روزانہ 50 روپےکماتا ہے۔ سونو کا کہنا ہے کہ اسے اپنے والد کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہے۔
پولیس اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں بچوں کو ان کے گھروں سے اغوا کر کے زبردستی بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس تصویر میں ایک بچی کناٹ پیلس کے باہر بھیک مانگ رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپولیس اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں بچوں کو ان کے گھروں سے اغوا کر کے زبردستی بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس تصویر میں ایک بچی کناٹ پیلس کے باہر بھیک مانگ رہی ہے۔
بھارت میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اکثر بچوں کو گداگری کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اکثر بچوں کو گداگری کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔
سماجی کارکنوں کے مطابق ان میں سے بہت سے بچے نشے کے عادی ہوتے ہیں اور کئی جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ بھارت میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت کم عمر بھکاریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
،تصویر کا کیپشنسماجی کارکنوں کے مطابق ان میں سے بہت سے بچے نشے کے عادی ہوتے ہیں اور کئی جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ بھارت میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت کم عمر بھکاریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بھارت کے متعدد شہروں بشمول نئی دہلی میں بھیک مانگنا غیر قانونی ہے۔ بھارت کے ایک 55 سال پرانے قانون کے تحت پولیس کو بھیک مانگنے والے افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار ہے، تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولیس اس قانون کو اکثر غریب افراد خصوصاً بھکاری بچوں کے خلاف استعمال کرتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے متعدد شہروں بشمول نئی دہلی میں بھیک مانگنا غیر قانونی ہے۔ بھارت کے ایک 55 سال پرانے قانون کے تحت پولیس کو بھیک مانگنے والے افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار ہے، تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولیس اس قانون کو اکثر غریب افراد خصوصاً بھکاری بچوں کے خلاف استعمال کرتی ہے۔