اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے
،تصویر کا کیپشنفلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں غزہ پر بمباری کے خلاف مظاہرے میں اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنجنگ کی وجہ سے غزہ میں بسنے والے لوگوں کے لیے 40 فیصد علاقہ ’نوگو‘ یا ممنوعہ علاقہ بن گیا ہے اور شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشن118000 ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے افراد کو خوراک کی قلت اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔
،تصویر کا کیپشنغزہ کی وزارت صحت کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چلنے والے ایک سکول پر اسرائیلی فوج کی گولہ باری کی وجہ سے کم از کم 13 افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہوگئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجب بیت الحین میں واقع سکول توپ کے گولوں کی زد میں آیا تو اس وقت وہاں سینکڑوں فلسطینی موجود تھے۔ غزہ میں اسرائیلی آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ چوتھا موقع ہے جب حماس کے خلاف جاری آپریشن کے دوران اقوام متحدہ کی کسی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنحماس کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی ختم ہونے تک جنگ بندی نہیں ہو سکتی۔
،تصویر کا کیپشنخالد مشعل نے کہا کہ حماس مستقل جنگ بندی کو اس وقت تک رد کرتا رہے گا جب تک اس کی شرائط تسلیم نہیں کر لی جاتیں۔
،تصویر کا کیپشنخالد مشعل کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط میں غزہ کی مصر کے ساتھ رفح کے سرحدی راستے کو کھولنے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنخالد مشعل نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کی شق شامل نہ ہو اور جو غزہ کے لوگوں کی قربانیوں کا احترام نہ کرے۔