،تصویر کا کیپشنبرازیل میں جاری 2014 فیفا ورلڈ کپ میں اب صرف چار ٹیمیں باقی رہ گئی ہیں۔ 28 ٹیمیں اپنے ممالک واپس لوٹ چکی ہیں جہاں کچھ کا ہیرو اور کچھ کا زیرو کی طرح استقبال ہو رہا ہے۔ بوگوٹا میں کولمبیا کی ٹیم کی آمد پر جشن منایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنکولمبیا کی ٹیم ٹورنامنٹ کی آخری آٹھ ٹیموں میں سے ایک تھی اور جمعے کے روز برازیل کے خلاف 2-1 سے شکست کے بعد وطن لوٹی ہے۔
،تصویر کا کیپشنالجیریا کی ٹیم نے اپنی ورلڈ کپ کی تاریخ کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ان کے مداحوں کو اس کا احساس تھا۔
،تصویر کا کیپشنیہ پہلی بار تھا کہ الجیریا کی ٹیمآؤٹ مرحلے تک پہنچی جہاں اسے جرمنی سے 2-1 سے شکست ہوئی۔
،تصویر کا کیپشنیوروگوائے میں فٹبال شائقین نے لوئس سواریز کی آمد پر ان کی حمایت کا اظہار کیا۔
،تصویر کا کیپشنبوسینا کی ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کی اور ان کی ٹیم گروپ ایف میں تیسرے نمبر پر آئی۔
،تصویر کا کیپشنالبتہ جنوبی کوریا کے کھلاڑیوں کا استقبال کچھ زیادہ گرم جوشی سے نہیں کیا گیا اور انھیں سیول کے ہوائی اڈے پر ٹافیاں ماری گئیں۔ وہ برازیل میں کوئی میچ بھی جیت نہیں سکے۔
،تصویر کا کیپشندفاعی چیمپیئن سپین کی میڈرڈ میں واپسی پر کوئی تقریب نہیں ہوئی۔ سپین پہلے راؤنڈ میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنچار سال قبل جب سپین کی ٹیم جنوبی افریقہ میں ورلڈ کپ جیت کر وطن لوٹی تھی تو سماں کچھ اور تھا۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کے کھلاڑی بھی برازیل سے بطور گروپ ڈی کی آخری ٹیم لوٹے ہیں۔ 1958 کے بعد ورلڈ کپ میں ان کی یہ بدترین کارکردگی ہے۔