کابل کے قریب آئل ٹینکرز کے ٹرمینل پر حملے میں درجنوں ٹینکرز تباہ۔
،تصویر کا کیپشنافغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں ’بین الاقوامی افواج‘ کو تیل سپلائی کرنے والے آئل ٹینکرز کے ٹرمینل پر شدت پسندوں کے حملے میں درجنوں ٹینکرز تباہ ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جمعے کی شب پیش آنے والے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے۔ آگ بجھانے والا عملہ ساری رات آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا تاہم سنیچر کی صبح تک آگ بھڑک رہی تھی۔
،تصویر کا کیپشنافغان سکیورٹی حکام نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ کم از کم چار سو ٹینکروں کو آگ لگی ہے۔
،تصویر کا کیپشنطالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان نے غیر ملکی افواج کو تیل کی رسد کو نشانہ بنایا ہے تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا طالبان کا نشانہ بننے والے ٹینکرز نیٹو رسد کے تھے۔
،تصویر کا کیپشنماضی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں نیٹو کے ٹرکوں اور آئل ٹینکروں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ان حملوں میں نیٹو افواج کو نہ صرف آپریشنل مشکلات کا سامنا رہا ہے بلکہ شدید مالی نقصان بھی ہوتا رہا ہے۔ طالبان کے مختلف گروہ ان کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگذشتہ ماہ 19 جون کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب افغان علاقے میں نیٹو سپلائی کے ایک اڈّے پر خودکش حملے میں 37 گاڑیاں تباہ ہوگئی تھیں۔
،تصویر کا کیپشنرواں سال افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج نکلنے کی تیاریاں کر رہی ہے اور ملک میں سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز کی ہو گی۔ افغانستان میں رواں سال شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔گذشتہ ماہ صوبے ہلمند کے ضلع سنگین میں پانچ دن سے جاری لڑائی میں کم از کم سو طالبان جنگجو اور 21 افغان فوجی مارے گئے تھے۔