چائے بھارت کے تمام طبقوں اور علاقوں میں یکساں طور پر مقبول ہے
،تصویر کا کیپشنچائے بھارت کا سب سے مقبول ترین مشروب ہے اور ہرسال ملک میں آٹھ لاکھ 37 ہزار ٹن چائے درآمد کی جاتی ہے۔ چائے پینے کی روایت یا عادت تمام طبقات میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے اور سڑکوں کے کنارے چائے والوں کے سٹال ہر شہر ہر گاؤں اور قصبے میں نظر آتے ہیں جو کھولتی ہوئی چائے، مسالوں، چینی اور دودھ کے ساتھ بنا کر بیچتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسنتوش گرم گرم چائے کا ایک دیگچے میں بنی چائے چھان رہے ہیں۔ 15 برس قبل انھوں نے جب اس علاقے میں چائے بیچنا شروع کی تو اسی وقت سے پورا علاقہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا۔ پہلے جن جگہوں پر چائے پہنچاتے تھے وہاں اب بڑی بڑی عمارتیں بن گئی اور سنتوش ان میں وہ داخل نہیں ہو سکتے، لیکن ان دفتروں میں کام کرنے والے ان کے مستقل گاہک بن گئے ہیں وہ اپنے دفتروں میں ٹی بیگ سے بنی چائے کے بجائے ادرک اور گاڑھے دودھ سے بنی ان کی چائے کو ترجیح دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشمالی بھارت میں ادرک چائے کا ایک اہم جز ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے استعمال کے بہت فائدے ہیں اور یہ سردیوں میں جسم کو گرم رکھتی ہے۔ ادرک کا استعمال گرم مشروبات میں صدیوں سے کیا جاتا ہے اور 19ویں صدی میں جب انگریزوں نے چائے کو بھارت میں روشناس کرایا تو ادرک کا چائے میں استعمال ہونا لازمی ہو گیا۔
،تصویر کا کیپشنشوبان بروا کولکتہ کے ایک پوش علاقے علی پور میں کھڑے ہیں۔ ہندوں کے تہور درگا پوجا کے موقع پر یہاں ہزاروں یاتری آتے ہیں۔ عام دنوں میں وہ اپنی دکان رات آٹھ بجے بند کر دتیے ہیں لیکن درگا پوجا کے موقعے پر ان کی دکان ساری رات کھلی رہتی ہے اور وہ چائے اور ابلے ہوئے انڈے بیچتے ہیں۔ یاتریوں کو ساری رات جاگنے کے لیے چائے کی ضرورت ہوتی ہے۔
،تصویر کا کیپشندرگا پوجا کے آخری دن ہزاروں یاتری جلوس کی صورت میں دریائے ہگلی پر جا کر دیو قامت دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں پانی میں ڈبوتے ہیں۔ گذشتہ سال باغ بازار کے علاقے میں ایک لڑکے کے سر پر ایک مورتی گرنے سے وہ دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔ اس علاقے میں لوگ ایک چائے والے کی دکان پر اس کا افسوس کرنے کے لیے جمع ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچند دہائیاں قبل چائے مٹی کے بنے پیالوں میں بیچی جاتی تھی جنھیں ہندی میں کلڑ اور بنگالی میں بھار کہا جاتا ہے۔ کولکتہ میں اب بھی مٹی کے یہ پیالے استعمال کیے جاتے ہیں لیکن دوسری جگہوں پر پلاسٹک کے کپ، سٹیل کے ٹمبلر اور گلاس استعمال کیے جانے لگے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنوبی ریاست تمل ناڈو میں چائے کی کاشت کے لیے مشہور علاقے کوٹاگری میں پیدا ہونے والی رکمنی نے اپنی تمام عمر چائے کے باغات میں گزار دی ہے۔ چائے کے پتے اکٹھا کرنے والی عورتیں ان کی عمر کی وجہ سے انھیں احترام سے اماں کہتے ہیں۔ کام میں وقفے کے دوران وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے کالی چائے بناتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگھنیش ریاست بہار کے پٹنہ ریلوے سٹیشن پر چائے پیچتے ہیں اور وہ دن کے اختتام پر آخری مرتبہ چائے ابال رہے ہیں۔ ریل کا سفر کرنے والے سب ہی ہندوستانی ’چائے، چائے‘ کی صداؤں سے بہت مانوس ہوتے ہیں۔ گھنیش کو ریل گاڑیوں کے اوقات یاد ہو گئے ہیں اور چائے بیچنے کے ساتھ ساتھ اپنے گاہکوں کو معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچائے کے سٹال اکثر نسل در نسل چلتے ہیں۔ بھارت کے قدیم اور مقدس شہر بنارس (جس کا نام بدل کر وارانسی رکھ دیا گیا ہے) میں چائے کی اس دکان کے مالک کو بھی یہ دکان وراثت میں ملی ہے۔
،تصویر کا کیپشنلالو یادیو کی دکان وارانسی شہر میں گنگا کے کنارے ایک شمشان گھاٹ کے قریب ہے اور انھوں نے ہزاروں کی تعداد میں کریا کرم دیکھے ہوں گے۔ لالو کے والد نے 40 سال قبل یہ چائے کی دکان شروع کی تھی تاکہ کریا کرم میں شریک ہونے والے لوگ یہاں کچھ لمحے بیٹھ کر چائے پی سکیں۔