سات روز قبل شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں علاقے سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ چند دنوں کے دوران ہزاروں افراد محفوظ علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ کی جانب سے میرعلی اور میران شاہ کے علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی گئی اور اس دوران سینکڑوں افراد نے خواتین اور بچوں کے ہمراہ علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی۔
،تصویر کا کیپشنقدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم کے ڈائریکٹر جنرل طاہر اورکزئی نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کو صوبے اور وفاق دونوں حکومتوں کی طرف سے نقد امداد دینے کے وعدے کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیرعلی اور میران شاہ کے علاقوں میں گاڑیاں کی عدم دستیابی کے باعث لوگ پیدل بنوں اور آس پاس کے علاقوں کی طرف جارہے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچند خاندانوں نے ایف آر بکاخیل کے علاقے میں قائم کیمپ میں بھی پناہ لی ہے جہاں متاثرین کےلیے تمام سہولیات فراہم کردی گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنزیادہ تر متاثرین بنوں ، کرک، ڈیرہ اسمعٰیل خان، کوہاٹ، ہنگو اور دیگر اضلاع کی طرف جا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناین ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے فی متاثرہ خاندان کو مکان کا کرایہ اور رمضان پیکیج دینے کا اعلان کیا ہے جن کے لیے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ فوج کو آپریشن ضرب عضب میں تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
،تصویر کا کیپشنقوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور قوم اس جنگ میں ہر مشکل کو عبور کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی جبکہ ان کے تحفظ کو بھی یقینی بنایاجائے گا۔
،تصویر کا کیپشنفوج کی جانب سے محاصرے میں لیے گئے علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے 3 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مختلف چوکیوں سے 24 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔