فوجی کارروائی کا اعلان مگر متاثرین کے لیے انتظامات ناکافی
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج کی طرف سے باقاعدہ آپریشن کے آغاز کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنان متاثرین کی ایک بڑی تعداد صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور آس پاس کے علاقوں میں پہنچی ہے
،تصویر کا کیپشنبنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی ساٹھ ہزار کے لک بھگ افراد گھر بار چھوڑ کر خواتین اور بچوں سمیت محفوظ مقامات پر پناہ لے چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنباقاعدہ فوجی کاروائی کا آغاز تو کر دیا گیا ہے مگر ابھی تک بے گھر ہونے والے افراد کےلیے کوئی باقاعدہ متاثرین کیمپ قائم نہیں کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں ایک گھر کے افراد اپنا سازوسامان لاد رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ابھی بھی ہزاروں افراد علاقے میں محصور ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیرانشاہ کا ایک بازار آپریشن کے بعد مقامی افراد کے انخلا یا محصور ہونے کی وجہ سے ویرانے کا منظر پیش کر رہا ہے
،تصویر کا کیپشنایک پولیس اہلکار نقل مکانی کرنے والے افراد کی شناختی دستاویزات کا معائنہ کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ فوج نے لوگوں کے اندارج اور دہشت گردوں کے ہتھیار ڈالنے کے مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔