برازیل میں 20ویں فٹبال ورلڈ کپ کی تیاریاں اپنے عروج پر
،تصویر کا کیپشن32 ملکوں کی ٹیموں پر مشتمل یہ مقابلہ اولمپکس کے بعد دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنارجنٹینا کے میسی اور برازیل کے نیمار مقامی لوگوں میں بے حد مقبول ہیں۔ بارسلونا کی طرف سے کھیلنے والے دونوں کھلاڑی ورلڈ کپ کے دوسرے راؤنڈ میں مدِ مقابل ہو سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس ٹورنامنٹ پر 11 ارب ڈالر لاگت آئی ہے اور کچھ عوامی حلقوں میں حکومت کے خلاف اتنی کثیر رقم خرچ کرنے پر غصہ بھی پایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشن12 شہروں میں ہونے والے اس مقابلے میں 64 میچ کھیلے جائیں گے جس میں 12 اسٹیڈیموں میں 33 لاکھ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔
،تصویر کا کیپشن36 سال بعد برازیل پہلا جنوبی امریکی ملک ہے جو ورلڈ کپ منقعد کروا رہا ہے۔اس سے پہلے طویل عرصے تک ورلڈ کپ کا انعقاد ایشیا اور یورپ میں ہوتا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنعام طور پر فیفا کسی بھی ملک میں ورلڈکپ کروانے کے لیے دس شہروں کا چناؤ کرتا ہے لیکن برازیل کے عوام کا فٹبال سے لگاؤ دیکھ کر فیفا نے خاص برازیل کے لیے اس پالیسی کو تبدیل کر کے شہروں کی تعداد 12 کر دی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرازیل اپنے ساحلی علاقوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
،تصویر کا کیپشناس ورلڈکپ میں سکینڈی نیویا سے تعلق رکھنے والا کوئی ملک شرکت نہیں کر رہا۔
،تصویر کا کیپشنبرازیل ورلڈکپ کی مہنگی ترین ٹیم ہے اور اس کی کل لاگت 50 کروڑ یورو سے زیادہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرازیلی شہر ریو میں ورلڈکپ کے شروع ہونے سے پہلی حکومت نے شہر کے کئی علاقوں میں گھروں پر تازہ رنگ روغن کروایا ہے۔