نومنتخب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی زندگی

نومنتخب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی زندگی

بھارت کے عام انتخابات میں بھارتیا جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد نریندر مودی پہلی مرتبہ ملک کے وزیرِ اعظم بنیں گے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے عام انتخابات میں بھارتیا جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد نریندر مودی پہلی مرتبہ ملک کے وزیرِ اعظم بنیں گے۔
موودی کی جماعت نے 543 کی ایوان میں 282 نشتیں حاصل کیں۔ وہ خود دو حلقوں گجرات اور اتر پردیش سے میدان میں اترے اور دونوں میں کامیابی حاصل کی۔
،تصویر کا کیپشنموودی کی جماعت نے 543 کی ایوان میں 282 نشتیں حاصل کیں۔ وہ خود دو حلقوں گجرات اور اتر پردیش سے میدان میں اترے اور دونوں میں کامیابی حاصل کی۔
گجرات میں وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک وزیرِ اعلی رہ چکے ہیں۔ اپنے دور میں انہوں نے اس ریاست کی اقتصادی بہتری کے لیے بہت کام کیا۔
،تصویر کا کیپشنگجرات میں وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک وزیرِ اعلی رہ چکے ہیں۔ اپنے دور میں انہوں نے اس ریاست کی اقتصادی بہتری کے لیے بہت کام کیا۔
مودی کے ہی دورِ اقتدار میں گجرات میں پھوٹنے والے فسادات میں ہندو مظاہرین کے ہاتھوں کم سے کم 1000 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ فسادات ایک ٹرین میں لگنے والے آگ میں 59 ہندو یاتریوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔ مودی پر الزام ہے کہ انہوں نے تشدد روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔
،تصویر کا کیپشنمودی کے ہی دورِ اقتدار میں گجرات میں پھوٹنے والے فسادات میں ہندو مظاہرین کے ہاتھوں کم سے کم 1000 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ فسادات ایک ٹرین میں لگنے والے آگ میں 59 ہندو یاتریوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔ مودی پر الزام ہے کہ انہوں نے تشدد روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔
مودی کی پیدائش 17 ستمبر 1950 کو گجرات کے مہسانہ ضلعے میں ایک غریب خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد دامودر داس ریلوے سٹیشن پر چائے بیچتے تھے اور والدہ ہیرا بین گزر بسر میں مدد کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔
،تصویر کا کیپشنمودی کی پیدائش 17 ستمبر 1950 کو گجرات کے مہسانہ ضلعے میں ایک غریب خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد دامودر داس ریلوے سٹیشن پر چائے بیچتے تھے اور والدہ ہیرا بین گزر بسر میں مدد کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔
انھوں نے جوانی میں ہی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ ان کی سیاسی تربیت آر ایس ایس میں ہی ہوئی لیکن اب ان کے کاروبار نواز اقتصادی نظریے اور آر ایس ایس کے ’سودیشی‘ کے تصور میں براہِ راست تضاد ہے۔ 2009 آر ایس ایس کے ایک اجلاس کی تصویر:
،تصویر کا کیپشنانھوں نے جوانی میں ہی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ ان کی سیاسی تربیت آر ایس ایس میں ہی ہوئی لیکن اب ان کے کاروبار نواز اقتصادی نظریے اور آر ایس ایس کے ’سودیشی‘ کے تصور میں براہِ راست تضاد ہے۔ 2009 آر ایس ایس کے ایک اجلاس کی تصویر:
مودی نے اور 70 کی دہائی سے پرچارک یا تنظیم کے مبلغ کے طور پر کام کر نا شروع کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مخالفت برداشت نہیں کرتے اور اسی لیے بہت سے سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ایک سیکیولر ملک میں سب کو ساتھ لے کر چلنا اور ملک کے جمہوری اداروں اور روایات کا احترام کرنا ہی ان کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔ (تصویر منیش بردیا)
،تصویر کا کیپشنمودی نے اور 70 کی دہائی سے پرچارک یا تنظیم کے مبلغ کے طور پر کام کر نا شروع کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مخالفت برداشت نہیں کرتے اور اسی لیے بہت سے سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ایک سیکیولر ملک میں سب کو ساتھ لے کر چلنا اور ملک کے جمہوری اداروں اور روایات کا احترام کرنا ہی ان کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔ (تصویر منیش بردیا)
70 کی دہائی میں جب وزیرِ اعظم گاندھی نے ملک مںی ایمرجنسی نافذ کی اور آر ایس ایس پر پابندی عائد کر دی گئی تو اس کے کئی رہنماؤں کی جیل بھیج دیا گیا۔ اس وقت مودی سکھ کا بہروپ اپنا کر حکام کی گرفت سے بچ نکلے۔(تصویر منیش بردیا)
،تصویر کا کیپشن70 کی دہائی میں جب وزیرِ اعظم گاندھی نے ملک مںی ایمرجنسی نافذ کی اور آر ایس ایس پر پابندی عائد کر دی گئی تو اس کے کئی رہنماؤں کی جیل بھیج دیا گیا۔ اس وقت مودی سکھ کا بہروپ اپنا کر حکام کی گرفت سے بچ نکلے۔(تصویر منیش بردیا)