،تصویر کا کیپشنپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سنیچر کو علی الصبح دو دھماکوں کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپولیس حکام کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کے ناکوں اور گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنشہر میں شدت پسندی کے واقعات کے بعد سب سے زیادہ تنقید ان سکیورٹی ناکوں پر کی جاتی ہے اور حکام متعدد بار شہریوں سے درخواست کر چکے ہیں کہ ان ناکوں پر پولیس سے تعاون کیا جائے۔
،تصویر کا کیپشنگاڑیوں کے علاوہ تلاشی کے عمل میں زیادہ توجہ موٹرسائیکل سوار افراد پر دی جاتی ہے جبکہ ایسے ناکوں پر کھڑے بعض پولیس اہلکار طویل ڈیوٹی اور نامناسب سہولیات کا ذکر کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتحقیقاتی اداروں نے دارالحکومت میں ہونے والے کم شدت کے دھماکوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسنیچر کو حکام نے سیکٹر ایف سکس میں دھماکے کے مقام سے شواہد اکٹھے کیے۔
،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق سپر مارکیٹ میں ہونے والا دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک سکیورٹی گارڈ نے سڑک کنارے پڑے تھیلے کو ٹھوکر ماری۔
،تصویر کا کیپشندوسرے دھماکے میں سیکٹر جی نائن کے کاروباری مرکز میں کھڑی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس سے وہ تباہ ہوگئی۔
،تصویر کا کیپشنبم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دنوں دھماکوں میں دو سے تین گلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔