،تصویر کا کیپشنسیالکوٹ میں قائم فارورڈ نامی پاکستانی کمپنی کو برازیل میں 14 جون سے شروع ہونے والے فٹ ورلڈ کپ کے لیے فٹ بال فراہم کرنے کا ٹھیکہ ملا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی صنعت کار اختر خواجہ کی کمپنی اور ایک چینی کمپنی کھیلوں کا سامان فروخت کرنے والی جرمن کمپنی ایڈیڈاس کے لیے یہ فٹ بال بنا رہے ہیں جو عالمی کپ میں استعمال ہوں گے۔
،تصویر کا کیپشنچینی کمپنی کو ایڈیڈاس کا آرڈر تیار کرنے میں مشکل پیش آ رہی تھی جس کے بعد پاکستانی کمپنی کو بھی فٹ بال تیار کرنے کو کہا گیا۔
،تصویر کا کیپشنسیالکوٹ میں کھیلوں کی صنعت بہت مضبوط ہے لیکن ماضی میں بچوں سے مشقت لینے کے معاملے پر فٹ بال بنانے کی صنعت مشکالات کا شکار ہو گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنماضی میں بھی پاکستان کے تیار کردہ فٹ بال عالمی مقابلوں میں استعمال ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبچوں سے مشقت لینے کے معاملات سامنے آنے کے بعد سیالکوٹ میں کئی صنعتوں نے جدید طریقے اپنا لیے ہیں اور وہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکئی فیکٹریوں میں حالت کار بہت بہتر ہوئے ہیں اور اکثر صنعت کاروں نے رضاکارانہ طور پر بغیر سرکاری معاونت کے بین الاقوامی معیار حاصل کر لیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسیالکوٹ میں فٹ بال سازی کی صنعت بہت پرانی اور دلچسپ ہے۔ اس کا آغاز تاج برطانیہ کے دور میں ہوا تھا جب ایک مقامی موچی برطانوی فوجیوں کے فٹ بال مرمت کرتے کرتے خود فٹ بال تیار کرنا سیکھ گیا تھا۔