برازیل میں آئندہ ماہ فٹبال کے عالمی کپ کے انعقاد کے خلاف احتجاجی مظاہرے۔
،تصویر کا کیپشنبرازیل کے شہر ساؤ پالو اور ریو ڈی جنیرو میں مظاہرین نے فٹبال کے عالمی کپ کے انعقاد پر ہونے والے اخراجات کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ورلڈ کپ کے انعقاد پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کی بجائے اس پیسے کا استعمال بہتر صحت، تعلیم، اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی بہتر سہولیات کے لیے کیا جانا چاہیے۔
،تصویر کا کیپشنبرازیل میں پولیس، ٹیچرز، سرکاری ملازمین اور ٹرانسپورٹ کے عملے نے بھی حکومت سے بہتر عوامی خدمات کا مطالبہ کرتے ہوئےملک بھر میں ہڑتال کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے ساؤ پالو کی اہم سڑکوں کو بند کر کے احتجاجاً ٹائر جلائے اور احتجاج کے دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گولوں کا استعمال کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشن2014 کے فٹبال ورلڈ کا آغاز بارہ جون کو ساؤ پاؤلو کے ایرینا کورنتھیئنز سے ہونا ہے اور اس سٹیڈیم کے نزدیک سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنبرازیل میں بے گھر افراد کی تحریک کے سربراہ گالیمائے بیواس نے کہا کہ’افراتفری کی ضرورت نہیں، ہمارا مقصد علامتی ہے۔ ہم سٹیڈیمز کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے بلکہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مزدوروں کو مکانات تک رسائی ہو اور عالمی کپ کے انعقاد سے غریبوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار گیری ڈافعی کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں میں وہ افراد بھی شامل تھے جن کے مکانات اور زمینوں پر سٹیڈیمز تعمیر کرنے کے لیے قبضہ کیا گیا اور انھیں زیادہ کرایے پر رہائش کے لیے مکانات حاصل کرنے پر مجبور کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنبرازیل میں جمعرات کو منعقدہ احتجاجی مظاہرے گذشتہ سال جون میں ہونے والے مظاہروں سے چھوٹے تھے۔ گذشتہ سال ہونے والے مظاہروں میں دس لاکھ کے قریب افراد نے شرکت کی تھی۔