روس حامی علیحدگی پسندوں کے دعوے ہیں کہ دونیتسک کے علاقے میں 90 فیصد ووٹروں نے ان کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوکرین کے مشرقی علاقوں میں ’خودمختاری‘ کے لیے ریفرنڈم کروائے گئے ہیں جن میں روس حامی علیحدگی پسندوں کے دعوے ہیں کہ دونیتسک کے علاقے میں 90 فیصد ووٹروں نے ان کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنروس کے حامی علیحدگی پسندوں نے کئی مشرقی شہروں میں سرکاری دفاتر پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں وہ یوکرین کی فوج سے زبردست معرکہ آرائی میں مشغول ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیوکرین نے اس ریفرنڈم کو ایک ’مجرمانہ ڈھونگ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا منتظم روس ہے۔ مغربی ممالک بھی اس عمل کی تنقید کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنریفرینڈم کے اس عمل میں کم از کم ایک فرد کے یوکرین کی حکومت کے حامی مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاک ہونے کی اطلاع بھی ہے۔
،تصویر کا کیپشنریفرینڈم کرانے والے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسی ماہ کے اواخر میں وہ ریفرینڈم کا دوسرا مرحلہ کرائیں گے جس میں روس سے الحاق کے بارے میں سوال ہوگا۔
،تصویر کا کیپشندونیتسک پیپلز ریپبلک کے الیکشن کمیشن کے خود ساختہ سربراہ رومان لیاجن نے صحافیوں کو بتایا کہ اس ریفرنڈم میں 75 فیصد ٹرن آوٹ رہا جس میں سے 89 فیصد نے علیحدگی کے حق میں جبکہ 10 فیصد نے اس کے خلاف ووٹ ڈالے۔
،تصویر کا کیپشنوہانسک اور دونیتسک سے بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پولنگ سٹیشنوں پر افراتفری کا عالم تھا اور کئی مقامات پر نہ تو ووٹر فہرستیں تھیں