ہانگ کانگ کی فلک بوس عمارات

ہانگ کانگ کی خوبصورتی اجاگر کرنے کی کوشش

آسٹریلیا کے فوٹوگرافر پیٹر سٹیورٹ نے دو سال ہانگ کانگ میں گزارے۔ اس عرصے میں انھوں نے ہانگ کانگ کی سکائی لائن کی تصاویر بنائیں۔ ان تصاویر کا مقصد ہانگ کانگ کے وسیع و عریض شہر کی خوبصورتی کو اجاگر کرنا تھا۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے فوٹوگرافر پیٹر سٹیورٹ نے دو سال ہانگ کانگ میں گزارے۔ اس عرصے میں انھوں نے ہانگ کانگ کی سکائی لائن کی تصاویر بنائیں۔ ان تصاویر کا مقصد ہانگ کانگ کے وسیع و عریض شہر کی خوبصورتی کو اجاگر کرنا تھا۔
سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ ایسی تصاویر کا مقصد دیکھنے والے کو حواس باختہ کر دینا ہے، کیوں کہ وہاں اتنا کچھ ہے جو ایک نظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
،تصویر کا کیپشنسٹیورٹ کا کہنا ہے کہ ایسی تصاویر کا مقصد دیکھنے والے کو حواس باختہ کر دینا ہے، کیوں کہ وہاں اتنا کچھ ہے جو ایک نظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
سٹیورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کسی زمانے میں مچھیروں اور کسانوں کا شہر تھا، لیکن جدید ہانگ کانگ تجارتی اور مالیاتی گڑھ ہے جو چینی اور مغربی اثرات کے امتزاج کا عمدہ نمونہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنسٹیورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کسی زمانے میں مچھیروں اور کسانوں کا شہر تھا، لیکن جدید ہانگ کانگ تجارتی اور مالیاتی گڑھ ہے جو چینی اور مغربی اثرات کے امتزاج کا عمدہ نمونہ ہے۔
1997 سے قبل ہانگ کانگ برطانیہ کی نوآبادی تھا، لیکن جب برطانیہ کا 99 سالہ پٹہ ختم ہو گیا تو ہانگ کانگ چین کا انتظامی علاقہ بن گیا۔
،تصویر کا کیپشن1997 سے قبل ہانگ کانگ برطانیہ کی نوآبادی تھا، لیکن جب برطانیہ کا 99 سالہ پٹہ ختم ہو گیا تو ہانگ کانگ چین کا انتظامی علاقہ بن گیا۔
ہانگ کانگ کی معیشت صنعت سے خدمات کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔ یہ علاقہ اہم تجارتی مرکز اور بینکاری کا مرکز ہے اور چین کی اکثر برآمدات بھی یہیں سے ہوتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ کی معیشت صنعت سے خدمات کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔ یہ علاقہ اہم تجارتی مرکز اور بینکاری کا مرکز ہے اور چین کی اکثر برآمدات بھی یہیں سے ہوتی ہیں۔
19ویں اور 20ویں صدی میں ہانگ کانگ کی آبادی میں اس وقت بہت زیادہ اضافہ ہوا جب لاکھوں چینی تارکینِ وطن یہاں آ کر آباد ہوئے۔ سنہ 1970 کی دہائی میں ہانگ کانگ ’ایشین ٹائیگر‘ بن گیا۔
،تصویر کا کیپشن19ویں اور 20ویں صدی میں ہانگ کانگ کی آبادی میں اس وقت بہت زیادہ اضافہ ہوا جب لاکھوں چینی تارکینِ وطن یہاں آ کر آباد ہوئے۔ سنہ 1970 کی دہائی میں ہانگ کانگ ’ایشین ٹائیگر‘ بن گیا۔
ہانگ کانگ کے پہاڑی علاقوں میں توسیع کا کام مشکل ہے۔ ہانگ کانگ کا شمار دنیا کے زیادہ آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ کے پہاڑی علاقوں میں توسیع کا کام مشکل ہے۔ ہانگ کانگ کا شمار دنیا کے زیادہ آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے۔
ہانگ کانگ میں بلند عمارات، مندر، شاپنگ مالز اور روایتی بازاروں کی بھر مار ہے۔ اس تصویر میں جورڈون میں ٹیمپل سٹریٹ کے شبینہ بازار کا ایک منظر دکھیا گیا ہے۔ یہ علاقہ یاؤسم مونگ میں واقع ہے۔
،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ میں بلند عمارات، مندر، شاپنگ مالز اور روایتی بازاروں کی بھر مار ہے۔ اس تصویر میں جورڈون میں ٹیمپل سٹریٹ کے شبینہ بازار کا ایک منظر دکھیا گیا ہے۔ یہ علاقہ یاؤسم مونگ میں واقع ہے۔
آسٹریلیا کے فوٹو گرافر پیٹر سٹیورٹ نے بتایا کہ یہ تمام تصاویر رات کو لی گئیں جب شہر میں بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے۔ ایک مصروف شاہراہ جو کاؤلون کے علاقے یاؤ ما تے سے گزرتے ہوئے شہر کے حصوں کو آپس میں ملاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے فوٹو گرافر پیٹر سٹیورٹ نے بتایا کہ یہ تمام تصاویر رات کو لی گئیں جب شہر میں بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے۔ ایک مصروف شاہراہ جو کاؤلون کے علاقے یاؤ ما تے سے گزرتے ہوئے شہر کے حصوں کو آپس میں ملاتی ہے۔
فوٹوگرافر پیٹر سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’ٹرائی پاڈ‘ کی مدد سے رات کے وقت زیادہ فاصلے سے یہ تصاویر بنائیں۔
،تصویر کا کیپشنفوٹوگرافر پیٹر سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’ٹرائی پاڈ‘ کی مدد سے رات کے وقت زیادہ فاصلے سے یہ تصاویر بنائیں۔