،تصویر کا کیپشنگوہاٹی سے دو سو کلو میٹر دور ایک گاؤں میں ایک بچی اپنے کسی عزیر کی ہلاکت پر رو رہی ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد بنگالی مسلمان تھے اور مبینہ طور پر انھیں بوڈو قبائلیوں نے نشانہ بنایا۔
،تصویر کا کیپشنمسلمانوں کے گھروں پر ہونے والے حملوں میں عورتیں اور بچے بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنآسام میں نیانگوری گاؤں سے لوگ پیدل ہی محفوظ علاقوں کی طرف سفر کر گئے جن میں معصوم بچے اور عورتیں کی بڑی تعداد شامل تھی۔
،تصویر کا کیپشنگھر چھوڑ کر مجبور ہونے والے مسلمان مختلف جہگوں پر کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشنآسام میں مسلمان اپنے جان اور مال کو بچانے کے لیےگھروں کو چھوڑ کر محفوظ علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآسام میں انتخابی سیاست اس مرتبہ مسلمانوں کے گھروں پر حملے کا باعث بنی ہے اور ان علاقوں میں ماضی میں مذہبی کشیدگی رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنآسام میں سکیورٹی فورسز مسلمانوں کے جلے ہوئے مکانات سے بچا کچا سامان جمع کر رہے ہیں۔ علاقے میں مسلمانوں کے گھروں پر حملے کے بعد مسلمان علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآسام کی شمالی مشرقی ریاست آسام کے گاؤں کاگرابری میں سکیورٹی فورسز مسلمانوں پر حملوں کے بعد صورت حال پر قابو پانے کے لیے پہنچے اور پولیس نے بائیس افراد کو حراست میں لے لیا۔
،تصویر کا کیپشنانڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے باسکا ضلع میں مسلمانوں پر حملوں میں ان کے گھروں کو آگ لگا دی۔ سکیورٹی فورسز کو نو مسلمانوں کی لاشیں ملیں اور مرنے والوں کی تعداد اکتیس ہو گئی ہے۔