دہلی میں گرمی کی لہر

بھارتی دارالحکومت دہلی میں آئندہ چند دن میں موسم مزید گرم ہونے کی پیشنگوئی۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں وقت سے پہلے ہی گرمی کی شدت دیکھنے میں آئی ہے اور لوگ دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے سایہ دار جگہوں کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے دارالحکومت دہلی میں وقت سے پہلے ہی گرمی کی شدت دیکھنے میں آئی ہے اور لوگ دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے سایہ دار جگہوں کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔
بھارت کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں گرمی کی حالیہ شدت مزید چند دن تک جاری رہے گی اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید شدت کا امکان ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں گرمی کی حالیہ شدت مزید چند دن تک جاری رہے گی اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید شدت کا امکان ہے۔
 محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں دارالحکومت کا درجہ حرات 42 سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ بھارت میں موسم گرما کی شدت سے ہر سال درجنوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں دارالحکومت کا درجہ حرات 42 سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ بھارت میں موسم گرما کی شدت سے ہر سال درجنوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
گرم موسم کے ساتھ ہی پھلوں کا’باشادہ‘ آم بھی منڈی میں آ گیا ہے۔ بھارت میں آموں کی ایک ہزار کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں۔ بھارتی آم کی مقبول نسل الفونسو آم مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکہ میں بہت مشہور ہیں لیکن رواں سال یورپی یونین کے بھارتی آموں اور سبزیوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارتی برآمدات کے ادارے نے یورپی یونین کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگرم موسم کے ساتھ ہی پھلوں کا’باشادہ‘ آم بھی منڈی میں آ گیا ہے۔ بھارت میں آموں کی ایک ہزار کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں۔ بھارتی آم کی مقبول نسل الفونسو آم مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکہ میں بہت مشہور ہیں لیکن رواں سال یورپی یونین کے بھارتی آموں اور سبزیوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارتی برآمدات کے ادارے نے یورپی یونین کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت میں موسم گرما کے ساتھ ہی مشروبات کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ پیاس بھجانے کے لیے مٹی کے کولر استعمال کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں موسم گرما کے ساتھ ہی مشروبات کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ پیاس بھجانے کے لیے مٹی کے کولر استعمال کرتے ہیں۔
بھارت میں لوگوں کی بڑی تعداد موسم گرما میں ائر کولرز کا استمعال کرتی ہے اور بعض اوقات شدید گرم موسم میں ان کولرز کی مانگ میں بے پناہ اضافے سے قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ ائر کولر کم بجلی خرچ کرتا ہے اور متوسط طبقے کے لیے ائرکنڈشننگ یونٹس کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں لوگوں کی بڑی تعداد موسم گرما میں ائر کولرز کا استمعال کرتی ہے اور بعض اوقات شدید گرم موسم میں ان کولرز کی مانگ میں بے پناہ اضافے سے قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ ائر کولر کم بجلی خرچ کرتا ہے اور متوسط طبقے کے لیے ائرکنڈشننگ یونٹس کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔