حامد میر پر حملے کے خلاف مظاہرے

پاکستان کے مختلف شہروں میں سینیئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاج۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں ملک کے سینیئر صحافی حامد میر پر جمعے کو کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس سلسلے میں کراچی میں بھی صحافیوں نے سنیچر کو احتجاجی مظاہرہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے مختلف شہروں میں ملک کے سینیئر صحافی حامد میر پر جمعے کو کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس سلسلے میں کراچی میں بھی صحافیوں نے سنیچر کو احتجاجی مظاہرہ کیا۔
صحافیوں کے احتجاج کے علاوہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے حامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد احتجاجاً چھ روز تک سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنصحافیوں کے احتجاج کے علاوہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے حامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد احتجاجاً چھ روز تک سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں سنیچر کو صحافیوں نے نیشنل پریس کلب کے سامنے حامد میر پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں سنیچر کو صحافیوں نے نیشنل پریس کلب کے سامنے حامد میر پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد میں احتجاج کے موقع پر صحافیوں نے حامد میر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔ صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی ایک رپورٹ میں پاکستان کو دنیا میں صحافیوں کے لیے بدترین ملک قرار دیا جاتا ہے جہاں صحافیوں کو کسی قانونی گرفت کے خطرے سے بالاتر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں احتجاج کے موقع پر صحافیوں نے حامد میر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔ صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی ایک رپورٹ میں پاکستان کو دنیا میں صحافیوں کے لیے بدترین ملک قرار دیا جاتا ہے جہاں صحافیوں کو کسی قانونی گرفت کے خطرے سے بالاتر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں احتجاج کے موقع پر صحافیوں نے ’زندہ ہے صحافی زندہ ہے‘ کے نعرے لگائے۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی صحافی برادری متعدد بار اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر چکی ہے۔
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں احتجاج کے موقع پر صحافیوں نے ’زندہ ہے صحافی زندہ ہے‘ کے نعرے لگائے۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی صحافی برادری متعدد بار اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر چکی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے سینیئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات تین رکنی عدالتی کمیشن سے کرانے کا اعلان کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نواز شریف نے سینیئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات تین رکنی عدالتی کمیشن سے کرانے کا اعلان کیا ہے۔
صحافیوں کے مظاہرے میں سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنصحافیوں کے مظاہرے میں سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔
حامد میر کو کراچی میں جمعے کو ایئرپورٹ سے اپنے دفتر کی طرف جاتے ہوئے اپنی گاڑی میں نشانہ بنایا گیا جس کے کچھ دیر بعد وہاں صحافیوں نے احتجاج کیا۔
،تصویر کا کیپشنحامد میر کو کراچی میں جمعے کو ایئرپورٹ سے اپنے دفتر کی طرف جاتے ہوئے اپنی گاڑی میں نشانہ بنایا گیا جس کے کچھ دیر بعد وہاں صحافیوں نے احتجاج کیا۔