مشرف کےحامی سڑکوں پر

اسلام آباد میں پرویز مشرف کے حامیوں کا ان کے رہائش گاہ کے قریب مظاہرہ

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے حامیوں نے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع کی رہائش گاہ کے قریب مظاہرہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے حامیوں نے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع کی رہائش گاہ کے قریب مظاہرہ کیا۔
رواں سال مارچ میں ایک خصوصی عدالت میں جاری غداری کے مقدمے میں مشرف پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں سابق صدر کا نام وفاقی حکومت نے ڈالا تھا اور وہی اُن کا نام ای سی ایل سے نکال سکتی ہے جبکہ ملزم زیرِ حراست نہیں ہیں اس لیے اُن کی نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہیں۔
،تصویر کا کیپشنرواں سال مارچ میں ایک خصوصی عدالت میں جاری غداری کے مقدمے میں مشرف پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں سابق صدر کا نام وفاقی حکومت نے ڈالا تھا اور وہی اُن کا نام ای سی ایل سے نکال سکتی ہے جبکہ ملزم زیرِ حراست نہیں ہیں اس لیے اُن کی نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہیں۔
جنرل مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر بھی ہے جس کی وجہ سے وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ وزارت داخلہ نے مشرف کی جانب سے اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے سے متعلق درخواست مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ میں ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دائر کی گئی۔ آئین سے غداری کے مقدمے کے علاوہ بھی جنرل مشرف کےخلاف کئی مقدمے درج ہیں اور ان کی سماعت ہو رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنجنرل مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر بھی ہے جس کی وجہ سے وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ وزارت داخلہ نے مشرف کی جانب سے اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے سے متعلق درخواست مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ میں ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دائر کی گئی۔ آئین سے غداری کے مقدمے کے علاوہ بھی جنرل مشرف کےخلاف کئی مقدمے درج ہیں اور ان کی سماعت ہو رہی ہے۔
پرویز مشرف کے حامیوں کا رواں ماہ یہ دوسرا مظاہرہ ہے۔ اس سے پہلے کراچی میں ان کے حق میں مظاہرہ ہو چکا ہے۔ پرویز مشرف پر غداری کے مقامے میں فردِ جرم عائد ہونے اور اس کے بعد حکومت کی جانب سے انھیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے انکار کے بعد بعض حلقوں کے مطابق فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپرویز مشرف کے حامیوں کا رواں ماہ یہ دوسرا مظاہرہ ہے۔ اس سے پہلے کراچی میں ان کے حق میں مظاہرہ ہو چکا ہے۔ پرویز مشرف پر غداری کے مقامے میں فردِ جرم عائد ہونے اور اس کے بعد حکومت کی جانب سے انھیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے انکار کے بعد بعض حلقوں کے مطابق فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔
اس کا ایک تاثر اس وقت ملا جب چند دن پہلے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں اور پھر ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اب کوئی فوجی آمر جمہوریت کی بساط لپیٹ کر اقتدار پر شب خون نہیں مار سکے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ فوج کے ایک ادارے نے غداری کے مقدمے کے ملزم پرویز مشرف کو پناہ دے رکھی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس کا ایک تاثر اس وقت ملا جب چند دن پہلے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں اور پھر ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اب کوئی فوجی آمر جمہوریت کی بساط لپیٹ کر اقتدار پر شب خون نہیں مار سکے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ فوج کے ایک ادارے نے غداری کے مقدمے کے ملزم پرویز مشرف کو پناہ دے رکھی ہے۔
اس کے بعد بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ’حالیہ دنوں میں بعض عناصر کی طرف سے پاکستانی فوج پر غیر ضروری تنقید‘ کی گئی ہے اور افسروں اور جوانوں کے تحفظات کے بارے میں کہا کہ فوج اپنے ’وقار کا ہرحال میں تحفظ کرے گی۔
،تصویر کا کیپشناس کے بعد بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ’حالیہ دنوں میں بعض عناصر کی طرف سے پاکستانی فوج پر غیر ضروری تنقید‘ کی گئی ہے اور افسروں اور جوانوں کے تحفظات کے بارے میں کہا کہ فوج اپنے ’وقار کا ہرحال میں تحفظ کرے گی۔
اس کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف کی سابق حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات سے قبل بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اس قسم کی ملاقاتوں کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا تاہم ان سے جو پیغام جاتا ہے وہ اہم ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناس کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف کی سابق حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات سے قبل بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اس قسم کی ملاقاتوں کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا تاہم ان سے جو پیغام جاتا ہے وہ اہم ہوتا ہے۔
اس کے بعد دو دن پہلے جمعرات کووزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک کے حساس اور اہم اداروں کے ذمہ داران ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کریں کیونکہ اس طرح کے بیانات اداروں کو کمزور کرنے کے مترداف ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس کے بعد دو دن پہلے جمعرات کووزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک کے حساس اور اہم اداروں کے ذمہ داران ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کریں کیونکہ اس طرح کے بیانات اداروں کو کمزور کرنے کے مترداف ہیں۔