،تصویر کا کیپشنملائیشیا کی فضائی کمپنی کے طیارے کو لاپتہ ہوئے تین ہفتے گزر گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس تلاش میں درجنوں ملک شامل ہیں اور اب جنوبی بحرِ ہند میں اس کی تلاش کا کام ہو رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کام دنیا کے دور افتادہ ترین سمندروں میں کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں جس جگہ جہاز کے ممکنہ ٹکڑوں کے دیکھے جانے کی اطلاع ملی تھی اب اس مقام سے کئی ہزار میل دور جہاز کی تلاش ہو رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنخراب موسم کے باعث اس ہفتے کے اوائل میں تلاش کے کام کو روکنا پڑا تھا۔
،تصویر کا کیپشنبحری جہازوں کے علاوہ تلاش کے اس کام میں درجنوں ہوائی جہاز بھی شامل ہیں جو جدیدترین آلات سے لیس ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجہاز کے زیادہ تر مسافروں کا تعلق چین سے تھا اور انھیں ملائیشیا کے حکام کے بیان پر یقین نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشنمسافروں کے لواحقین سے ہمدردی کے پیغامات سوشل میڈیا کی ویب سائٹ کے علاوہ روائتی طریقوں سے بھی بھیجے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلاپتہ جہاز پر سوار مسافروں کے لیے دعائیہ تقریبات بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبدقسمت مسافروں کی تصاویر انٹر نیٹ پر بھی لگائی جا رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیوی فضائیہ کے طیارے تلاش کے اس کام میں پیش پیش ہیں اور فضائیہ کے پی سی تھری اورین طیارے بھی اس کام میں شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتلاش ایک وسیع علاقے میں کی جا رہی ہے اور اس کام میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔
،تصویر کا کیپشنجسی نئی جگہ پر جہاز کے ممکنہ ٹکڑوں کی اطلاع ملی ہے اس جگہ پر بحری جہاز کو پہنچنے میں چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگے گا۔