آزادی کا مفہوم آپ کی نظر میں

’اصل بات یہ ہے کہ آپ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں‘

’آزادی‘ کے موضوع پر جاری پروگراموں کے تحت دنیا بھر سے لوگ بی بی سی کے ذریعے اپنی تصاویر، پینٹنگز اور ڈرائینگ کی نمائش کر رہے ہیں۔کانگو سے تعلق رکھنے والے جیک مُولیلے نے دلائی لاما کا یہ عکس اخبار کے تراشوں کی مدد سے تخلیق کیا اور پھر اسے آئل پینٹ سے سجایا۔
،تصویر کا کیپشن’آزادی‘ کے موضوع پر جاری پروگراموں کے تحت دنیا بھر سے لوگ بی بی سی کے ذریعے اپنی تصاویر، پینٹنگز اور ڈرائینگ کی نمائش کر رہے ہیں۔کانگو سے تعلق رکھنے والے جیک مُولیلے نے دلائی لاما کا یہ عکس اخبار کے تراشوں کی مدد سے تخلیق کیا اور پھر اسے آئل پینٹ سے سجایا۔
امریکہ سے لائیلا اڈیر نے یہ مجسمہ تانبے کی شِیٹ اور تاروں سے تخلیق کیا ہے۔یہ مجسمہ جسم سے روح کے ’آزاد‘ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ فنکار نے مجسمے کا سر دانستہ نہیں بنایا، تا کہ دیکھنے والا جو معنی دینا چاہے دے لے۔
،تصویر کا کیپشنامریکہ سے لائیلا اڈیر نے یہ مجسمہ تانبے کی شِیٹ اور تاروں سے تخلیق کیا ہے۔یہ مجسمہ جسم سے روح کے ’آزاد‘ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ فنکار نے مجسمے کا سر دانستہ نہیں بنایا، تا کہ دیکھنے والا جو معنی دینا چاہے دے لے۔
تنزانیہ کے ایدغر لُوشاجو کہتے ہیں کہ ’لوگ بھول جاتے ہیں ان کی اپنی طاقت ان لوگوں سے زیادہ ہے جو بظاہر طاقتور جگہوں پربیٹھے ہوئے ہیں۔‘ اس تصویر میں دکھایا گیا شخص تسلیم کر رہا ہے اس کی ذات آزادی کے ایک سلسے کی کڑی ہے۔
،تصویر کا کیپشنتنزانیہ کے ایدغر لُوشاجو کہتے ہیں کہ ’لوگ بھول جاتے ہیں ان کی اپنی طاقت ان لوگوں سے زیادہ ہے جو بظاہر طاقتور جگہوں پربیٹھے ہوئے ہیں۔‘ اس تصویر میں دکھایا گیا شخص تسلیم کر رہا ہے اس کی ذات آزادی کے ایک سلسے کی کڑی ہے۔
کینیڈا کی طالبہ ہیلن یاؤ کہتی ہیں کہ انی اس تصویر میں دروازہ آزادی کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے مواقعوں کی عکاسی کرتا ہے۔ لڑکی کے ہاتھ میں چابی ظاہر کرتی ہے کہ وہ جو دروازہ کھولنا چاہے اسے اس کی آزادی ہے۔
،تصویر کا کیپشنکینیڈا کی طالبہ ہیلن یاؤ کہتی ہیں کہ انی اس تصویر میں دروازہ آزادی کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے مواقعوں کی عکاسی کرتا ہے۔ لڑکی کے ہاتھ میں چابی ظاہر کرتی ہے کہ وہ جو دروازہ کھولنا چاہے اسے اس کی آزادی ہے۔
جرمن فنکارہ سانڈرا ایکرمین کی یہ تصویر سنہ 2011 میں لندن میں ہونے والا ایک مقابلہ جیت چکی ہے۔ سانڈرا کہتی ہیں کہ ان کی یہ تخلیق ’ جہاں آزادی کے نہ ہونے کی عکاسی کرتی ہے، وہاں یہ انسان کی نہایت ذاتی اور دکھ بھری آزادی کی بھی عکاس ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنجرمن فنکارہ سانڈرا ایکرمین کی یہ تصویر سنہ 2011 میں لندن میں ہونے والا ایک مقابلہ جیت چکی ہے۔ سانڈرا کہتی ہیں کہ ان کی یہ تخلیق ’ جہاں آزادی کے نہ ہونے کی عکاسی کرتی ہے، وہاں یہ انسان کی نہایت ذاتی اور دکھ بھری آزادی کی بھی عکاس ہے۔‘
امریکہ میں مقیم نروین آریاپتری اپنی اس آئل پینٹنگ کے متعلق کہتی ہیں کہ ’ ہم لوگ گھڑوں کی مانند ہیں اور ہمیں دوسروں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں دینا ہے، اور یوں ہماری اچھائی ضائع ہو جاتی ہے۔‘ نوین انڈیا میں پیدا ہوئی تھیں۔
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں مقیم نروین آریاپتری اپنی اس آئل پینٹنگ کے متعلق کہتی ہیں کہ ’ ہم لوگ گھڑوں کی مانند ہیں اور ہمیں دوسروں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں دینا ہے، اور یوں ہماری اچھائی ضائع ہو جاتی ہے۔‘ نوین انڈیا میں پیدا ہوئی تھیں۔
شریف عرفا کا تعلق مصر سے ہے اور وہ وہاں کے ایک ایوارڈ یافتہ کاٹونسٹ ہیں۔انھوں نے ہمیں یہ تصویر اس الفاظ کے ساتھ بھیجے کہ ’آزادی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی چیز کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنشریف عرفا کا تعلق مصر سے ہے اور وہ وہاں کے ایک ایوارڈ یافتہ کاٹونسٹ ہیں۔انھوں نے ہمیں یہ تصویر اس الفاظ کے ساتھ بھیجے کہ ’آزادی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی چیز کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔‘
کرسٹین سٹونر کے ہاں آسٹریلیا کے دیہی علاقوں میں نکل جانا اور وہاں آرٹس کا مطالعہ کرنا ہی اصل ’آزادی‘ ہے۔ساٹھ سالہ کرسٹین اس سے پہلے کاروباری دنیا میں ملازمت کرتی تھیں جہاں انھیں دیر تک دفتر میں رکنا پڑتا اور روزانہ طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔ لیکن وہ خود کو ان سب چیزوں سے ’آزاد‘ محسوس کرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکرسٹین سٹونر کے ہاں آسٹریلیا کے دیہی علاقوں میں نکل جانا اور وہاں آرٹس کا مطالعہ کرنا ہی اصل ’آزادی‘ ہے۔ساٹھ سالہ کرسٹین اس سے پہلے کاروباری دنیا میں ملازمت کرتی تھیں جہاں انھیں دیر تک دفتر میں رکنا پڑتا اور روزانہ طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔ لیکن وہ خود کو ان سب چیزوں سے ’آزاد‘ محسوس کرتی ہیں۔
مالٹا کے تعلق رکھنے والی فنکارہ سُو مِفسڈ ایک ایسا فن پارہ تخلیق کرنا چاہتی تھیں جسے سمجھنے میں کوئی مشکل نہ ہو۔’ ہم آزادی کو ہمیشہ پرندوں کی اڑان سے تشبیہ دیتے ہیں۔اڑتے پرندوں کا وقار اور ان کی خوبصورتی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم انسان کتنے لاچار و مجبور ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنمالٹا کے تعلق رکھنے والی فنکارہ سُو مِفسڈ ایک ایسا فن پارہ تخلیق کرنا چاہتی تھیں جسے سمجھنے میں کوئی مشکل نہ ہو۔’ ہم آزادی کو ہمیشہ پرندوں کی اڑان سے تشبیہ دیتے ہیں۔اڑتے پرندوں کا وقار اور ان کی خوبصورتی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم انسان کتنے لاچار و مجبور ہیں۔‘
جُولیا مخص تیرہ برس کی ہیں اور وہ ہانگ کانگ میں رہتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ چونکہ وہ یہاں کی مقامی بولی نہیں بول سکتیں اس لیے انھیں یہاں بہت دقت ہوتی ہے۔ ’میرا دماغ خیالات سے بھرا رہتا ہے۔ ڈرائینگ کرنے سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور یوں مجھے خوف اور پریشانی سے نجات ملتی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنجُولیا مخص تیرہ برس کی ہیں اور وہ ہانگ کانگ میں رہتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ چونکہ وہ یہاں کی مقامی بولی نہیں بول سکتیں اس لیے انھیں یہاں بہت دقت ہوتی ہے۔ ’میرا دماغ خیالات سے بھرا رہتا ہے۔ ڈرائینگ کرنے سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور یوں مجھے خوف اور پریشانی سے نجات ملتی ہے۔‘
سترہ سالہ فِلبرٹو اکارو تنزانیہ کے شہر دارالسلام میں رہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’میری ڈرائنگ کا تخیلاتی کردار اپنا چہرہ اس خوف سے چھپا لیتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن اس تصویر میں چونکہ اس کا چہرہ ہی نہیں اس لیے وہ ہر قسم کے الزام سے ’آزاد! ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنسترہ سالہ فِلبرٹو اکارو تنزانیہ کے شہر دارالسلام میں رہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’میری ڈرائنگ کا تخیلاتی کردار اپنا چہرہ اس خوف سے چھپا لیتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن اس تصویر میں چونکہ اس کا چہرہ ہی نہیں اس لیے وہ ہر قسم کے الزام سے ’آزاد! ہے۔‘
مالٹا میں مقیم برطانوی نژاد جینی کرونا کی اس تصویر کا مقصد ’موسم بہار کی ترجمانی‘ کرنا ہے۔جینی کہتی ہیں کہ وہ خود کو اس وقت ’آزاد‘ محسوس کرتی ہیں جب وہ کوئی فن پارہ تخلیق کر رہی ہوتی ہیں اور اس میں ’اپنی روح اور دل‘ کو سمو دیتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمالٹا میں مقیم برطانوی نژاد جینی کرونا کی اس تصویر کا مقصد ’موسم بہار کی ترجمانی‘ کرنا ہے۔جینی کہتی ہیں کہ وہ خود کو اس وقت ’آزاد‘ محسوس کرتی ہیں جب وہ کوئی فن پارہ تخلیق کر رہی ہوتی ہیں اور اس میں ’اپنی روح اور دل‘ کو سمو دیتی ہیں۔
جرمنی میں مقیم کیتھرین این کی یہ تصویر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اپنی ذات کو دریافت کرنے کی ’آزادی‘ کتنا مشکل کام ہے۔ اس لیے کہ ’ہمیں بچپن سے مسلسل یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمیں کیا بننا ہے، کیا حاصل کرنا ہے، کیا محسوس کرنا ہے، کیا سوچناہے، اور اپنے لیے کس چیز کا انتخاب کرنا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنجرمنی میں مقیم کیتھرین این کی یہ تصویر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اپنی ذات کو دریافت کرنے کی ’آزادی‘ کتنا مشکل کام ہے۔ اس لیے کہ ’ہمیں بچپن سے مسلسل یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمیں کیا بننا ہے، کیا حاصل کرنا ہے، کیا محسوس کرنا ہے، کیا سوچناہے، اور اپنے لیے کس چیز کا انتخاب کرنا ہے۔‘
آسٹریلیا کی لارا ایلکر کہتی ہیں کہ یہ تصویر ان کے اپنے تجربات کی عکاس ہے۔’بائیں جانب کے پھول دوسرے پھولوں کی نسبت زیادہ شوخ ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں اگر آپ دوسروں سے ہٹ کر کوئی کام کرتے ہیں تو یہ بھی ’آزادی‘ کی ہی ایک قسم ہے۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کی لارا ایلکر کہتی ہیں کہ یہ تصویر ان کے اپنے تجربات کی عکاس ہے۔’بائیں جانب کے پھول دوسرے پھولوں کی نسبت زیادہ شوخ ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں اگر آپ دوسروں سے ہٹ کر کوئی کام کرتے ہیں تو یہ بھی ’آزادی‘ کی ہی ایک قسم ہے۔
الینی پاولی نے یہ فن پارہ لندن میں تخلیق کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس تصویر میں انھوں نے انسان کی سوچ کے ارتقاع کو ’آزادی‘ کے طور پر دکھانے کی کوشش کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنالینی پاولی نے یہ فن پارہ لندن میں تخلیق کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس تصویر میں انھوں نے انسان کی سوچ کے ارتقاع کو ’آزادی‘ کے طور پر دکھانے کی کوشش کی ہے۔
کیلیفورنیا سے یوجین ایگر کا اپنی اس تصویر کے بارے میں کہنا ہے کہ ’آزادی‘ کا اصل مطلب غلامی اور ظلم سے نجات ہے۔ تصویر کے نچلے ہصے میں انگریزی لفظ ’سٹاپ‘ کے حجے یہ ظاہر کرتے ہیں ہمیں ہر ظلم اور زیادتی کو روکنا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکیلیفورنیا سے یوجین ایگر کا اپنی اس تصویر کے بارے میں کہنا ہے کہ ’آزادی‘ کا اصل مطلب غلامی اور ظلم سے نجات ہے۔ تصویر کے نچلے ہصے میں انگریزی لفظ ’سٹاپ‘ کے حجے یہ ظاہر کرتے ہیں ہمیں ہر ظلم اور زیادتی کو روکنا ہے۔
یوگنڈا کے پال سینڈاگیر لکڑی پر نقش و نگار بناتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’آزادی کا مطلب یہی ہے کہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں وہ کر سکیں۔ تقریر، تخلیقی آرٹ، عبادت اور محبت میں اپنی ذات کے اظہار کا نام ہی ’آزادی‘ ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنیوگنڈا کے پال سینڈاگیر لکڑی پر نقش و نگار بناتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’آزادی کا مطلب یہی ہے کہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں وہ کر سکیں۔ تقریر، تخلیقی آرٹ، عبادت اور محبت میں اپنی ذات کے اظہار کا نام ہی ’آزادی‘ ہے۔‘
ایران سے فرزاد نے اس تصویر میں تہران کے ’لبرٹی ٹاور‘ کی عکاسی کی ہے۔ آپ بی بی سی کے تحت جاری ’آزادی‘ کے سلسلے کی دیگر تصاویر بھی ہماری ویب سائیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنایران سے فرزاد نے اس تصویر میں تہران کے ’لبرٹی ٹاور‘ کی عکاسی کی ہے۔ آپ بی بی سی کے تحت جاری ’آزادی‘ کے سلسلے کی دیگر تصاویر بھی ہماری ویب سائیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔