اپنے پیاروں کی ’خبر‘ کا انتظار

ملائیشیا ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 لاپتہ ہوگیا ہے اور مسافروں کے لواحقین کا انتظار جاری ہے۔

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی ملائیشیا ایئر لائن کے مطابق ان کا ایک مسافر طیارہ سنیچر کی صبح کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی ملائیشیا ایئر لائن کے مطابق ان کا ایک مسافر طیارہ سنیچر کی صبح کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا ہے۔
یم ایچ 370 نامی پرواز جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب رات دو بج کر 40 منٹ پر کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے اڑی تھی اور اسے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے بیجنگ پہنچنا تھا۔
،تصویر کا کیپشنیم ایچ 370 نامی پرواز جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب رات دو بج کر 40 منٹ پر کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے اڑی تھی اور اسے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے بیجنگ پہنچنا تھا۔
ملائیشیا ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹوو احمد جوہاری یحییٰ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طیارے پر 14 قومیتوں کے مسافر شامل تھے اور ایئر لائن تمام مسافروں کے لواحقین سے رابطے کر رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنملائیشیا ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹوو احمد جوہاری یحییٰ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طیارے پر 14 قومیتوں کے مسافر شامل تھے اور ایئر لائن تمام مسافروں کے لواحقین سے رابطے کر رہی ہے۔
ملائیشیا ایئر لائن ایشیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور روزانہ اس پر 37 ہزار مسافر دنیا بھر میں 80 مقامات کا سفر کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنملائیشیا ایئر لائن ایشیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور روزانہ اس پر 37 ہزار مسافر دنیا بھر میں 80 مقامات کا سفر کرتے ہیں۔
چین کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس طیارے پر سوار مسافروں میں سے 160 چینی شہری تھے۔
،تصویر کا کیپشنچین کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس طیارے پر سوار مسافروں میں سے 160 چینی شہری تھے۔
اس بوئنگ 777 طیارے پر دو شیرخوار بچوں سمیت 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔
،تصویر کا کیپشناس بوئنگ 777 طیارے پر دو شیرخوار بچوں سمیت 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کا کہنا تھا کہ مذکورہ طیارہ چین کی فضائی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے عملے نے چینی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنچین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کا کہنا تھا کہ مذکورہ طیارہ چین کی فضائی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے عملے نے چینی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔