،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے ’آزادی 2014‘ کے سلسلے کے حصے کے طور پر بی بی سی نے دنیا بھر سے لوگوں سے تصاویر منگوائیں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ آزادی کیسی محسوس ہوتی ہے۔ یہ تصویر لائیم میک کیفرٹی نے آئر لینڈ سے بھجوائی۔
،تصویر کا کیپشنجوشوا ہارٹ اس انسان نما بندر کی ’معاف کرنے اور بھول جانے‘ کی خصوصیت سے بہت متاثر ہوئے۔ اس بندر کو برے حالات میں رکھا گیا اور بعد میں انڈونیشیا میں جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اہل کاروں نے اسے ان حالات سے نکالا۔ جوشوا ہارٹ کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ’خوف سے آزاد زندگی گزارنے‘ کو ظاہر کرتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ تصویر ریبیکا پولنسکی کو مصنف رچرڈ باخ کی لکھی ہوئی ان کی پسندیدہ کتاب ’جوناتھن لیونگسٹن سیگل‘ کی یاد دلاتی ہے۔ ریبیکا پولنسکی نے یہ تصویر امریکہ کے شہر نیویارک میں کھینچی۔ یہ ایک بگلے کی کہانی ہے جو اڑنے اور زندگی کے بارے میں سیکھتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کے نیوفارسٹ میں صبح کی شبنم نے اس تصویر کو مزید خوبصورت بنا دیا ہے۔ جیسن شرب کھلی فضا اور آزادی کو بہت پسند کرتے ہیں۔ وہ حال ہی میں لندن سے یہاں منتقل ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشننیروبی کے جانوروں کے محافظ خانے سے لی گئی اس تصویر کے بارے میں آئیوان وکیامبیا کہتے ہیں: ’میں کبھی اس طرح کے قید میں نہیں رہا۔‘ انھوں نے کہا ’میں اپنی مرضی سے کہیں بھی جا سکتا ہوں لیکن پھر بھی مجھے پیر سے جمعے تک کام کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح میں بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشنسیسیلیا فاٹون کا کہنا ہے کہ ہر شخص کی آزادی کے بارے میں اپنی رائے ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ کوہ پیمائی کرتے ہیں، کچھ افراد کے لیے یہ تیرنے کی طرح ہے جب کہ کچھ کے لیے بیس جمپنگ ہے۔ سیسیلیا فاٹون نے یہ تصویر اٹلی میں کھینچی۔
،تصویر کا کیپشنکارل پیٹر نے کتوں کی برف پر ہونے والی اس ریس کی یہ تصویر گرین لینڈ سے بھیجی۔ کارل پیٹر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کتوں کے ساتھ اکیلے تھے اور صرف برف کی آواز تھی۔
،تصویر کا کیپشنترکی کی بھیڑوں کی یہ تصویر اوگوز کاگن ساہن نے بھجوائی۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں نے یہ تصویر کھینچی تو میرا خیال تھا کہ یہ بھیڑوں اپنے باڑے کو چھوڑ کر درختوں کی جانب بھاگتی ہوں گی تو انھیں آزادی کا احساس ہوتا ہو گا۔
،تصویر کا کیپشنجینٹ اولیسکی کا کہنا ہے کہ ابوظہبی کے صحرا میں سواری کرنا آزادی کی ایک قسم ہے۔ یونیورسٹی لیکچرار جینٹ ہفتے میں متعدد بار سواری کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشننیکھل نانیودیکار نے اس سنڈی کو سنگاپور میں واقع اپنے گھر سے باہر دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سنڈی کو کوئی خوف نہیں تھا اور وہ اپنی آزادی کا مزا لے رہی تھی۔
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں ایک باز اپنے شکار کی تلاش میں ہے۔ یہ اس باز پر منحصر ہے کہ وہ پرواز کرنے یا اسی باغ میں بیٹھا رہے اور یہی آزادی ہے۔
،تصویر کا کیپشنجنوب مشرقی ویلز کی ساحلی مقام پر یہ کتے دوڑ رہے ہیں۔ آزادی لمحاتی ہوتی ہے کیونکہ ہماری ذمہ داریوں بیماری، معاشی بوجھ کی وجہ سے آزادی کے لمحات بہت کم عرصے کے لیے میسر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپانی میں اس آبی حیات کو دیکھ کر آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ ڈینئل بیسن کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے شہر ساؤ پالو برازیل میں ٹریفک اور آلودگی بہت زیادہ ہے۔ یہ تصویر انھوں نے سنگاپور میں کھینچی۔
،تصویر کا کیپشنیہ تصویر رابرٹو پیستارینو نے اٹلی سے بھیجی۔ اس تصویر میں ایک پرندہ پنجرے میں نکل رہا ہے جو آزادی کو ظاہر کرتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسٹیفانو زوکا نے اس پہاڑی بکری کو اٹلی میں پہاڑ کی چوٹی پر دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے شاندار جانور کی یہ تصویر لینے پر مجبور تھے جو ڈھلوانوں کی بلندی پر آزادی کی نعمت سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
،تصویر کا کیپشنرابرٹ لیشلے نے یہ تصویر ہالمپٹن، برطانیہ سے بھیجی۔ انھوں نے دوسری جنگِ عظیم میں حصہ لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تصویر سنہ 50 کی دہائی کی نمائندگی کرتی ہے۔