سینٹرل ایفریقن رپبلک کا بوکاشا محل، ایک آمر کی مخدوش ہوتی باقیات
،تصویر کا کیپشنافریقہ کے ملک سینٹرل ایفریقن رپبلک میں جاری خانہ جنگی نے ملک کے سابق سربراہ یاں بیدل بوکاشا کے محل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو بنگوئی سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور کس کے سوئمنگ پول میں کائی لگی ہے اور سلائیڈ زنگ آلود ہے
،تصویر کا کیپشنبوکاشا کے اقتدار کا خاتمہ ہونے کے 35 سال بعد اب یہ محل کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں اب جنگجنو فوجی رنگروٹ رہتے ہی۔ ان لکڑی بردار رنگروٹوں کو ان کے کمانڈروں نے چار مہینے پہلے چھوڑ دیا تھا جب سیلیکا باغی علاقے کے نگران تھے
،تصویر کا کیپشنبوکاشا کے 14 سالہ دورِ حکومت میں ان پر مختلف طریقوں سے آدم خور ہونے اور اپنے مخالفین کو اپنے ذاتی چڑیا گھر میں شیروں اور مگر مچھوں کے آگے زندہ ڈالنے کی خبریں سامنے آتی رہیں۔ ان کا ایک قد آور مجسمہ محل کے داخلی راستے پر نمایاں نظر آتا ہے اور جب 2000 میں بی بی سی کے نامہ نگار نے اس محل کا دورہ کیا تھا تو بوشکا کے 62 بچوں میں سے کچھ محل کے مضافاتی گھروں میں رہائش پذیر تھے جنہیں امید تھی کہ اس محل کو ایک سیاحتی مقام میں بدلا جا سکے گا
،تصویر کا کیپشن2010 میں اس وقت کے صدر فرانسواں بوزیزی جنہیں باغیوں نے گذشتہ مارچ میں اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا نے بوکاشا کو باقاعدہ دوبارہ بحال کیا یہ اُس دن کی تصویر ہے جب ان کی بادشاہ کے طور پر تاجپوشی کی گئی جس میں انہوں نے نپولین سے متاثر ہو کر ایک لباس پہن رکھا ہے۔ صدارتی حکم نامے کے باوجود محل کی حالت مخدوش رہی
،تصویر کا کیپشنہیومن رائٹس واچ کے پیٹر بوکارٹ جنہوں نے اس محل کا اس ہفتے دورہ کیا نے کہا کہ اس محل میں قیام پذیر رنگروٹ اسے چھوڑنے سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں انہیں باغیوں کو چھوڑنے والے نہ کہا جائے
،تصویر کا کیپشنیہ رنگروٹ بغیر خوراک کے یہاں رہ گئے ہیں اور کھانے کے لیے پتے تیار کر رہے ہیں یہاں وہ ایک کھانے کے چمچے کے لیے مانگتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں
،تصویر کا کیپشنبوکارٹ کا کہنا ہے کہ اس محل میں پھرنا بہت عجیب تھا جہاں یہ رنگروٹ لکڑی کے ہتھیار لیے پھر رہ تھے
،تصویر کا کیپشنہیومن رائٹس واچ کی ٹیم بنگوئی سے 180 کلومیٹر دوری پر واقع ہیروں والے قصبے بودا جا رہی تھی جب انہیں یہ محل ملا
،تصویر کا کیپشنبوکارٹ کا کہنا ہے کہ ’جب ہم قصبے میں پہنچے تو ہمیں ہزاروں مسلمان شہری ملے جو بہت زیادہ خوفزدہ تھے اور اپنے گھروں کی حفاظت تیروں اور کمان سے کر رہے تھے
،تصویر کا کیپشنبودا قصبے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لڑائی سیلیکا باغیوں کی جانب انخلا کے بعد شروع ہوئی جنہوں نے میشل جودیا کو ملک کا پہلا مسلمان سربراہ بنایا تھا۔ ایک علاقائی امن مشن کے نتیجے میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا