بنگلہ دیش میں انتخابات کے دن بائیکاٹ، پولنگ اور تشدد کے واقعات
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش میں اتوار کو متنازع عام انتخابات کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں اور پولیس میں تصادم کے واقعات میں انتخابی عملے کے ایک رکن سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتشدد کی وجہ سے ملک بھر میں 150 سے زیادہ پولنگ مراکز پر ووٹنگ کا عمل معطل کر دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنجماعت اسلامی اور بی این پی کے حامیوں کو یہاں سرسوں کے کھیت میں برسر اقتدار جماعت سے بر سر پیکار دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈھاکہ کے علاوہ ملک کے دور دراز کے علاقوں سے تشدد کی خبریں ملی ہیں۔تشدد کے خوف سے لوگ گھروں سے نکلنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔
،تصویر کا کیپشنڈھاکہ میں ووٹنگ کے لیے تمام اپیلوں اور تیاریوں کے باوجود سڑکیں بالکل سنسان رہیں اور پولنگ سٹیشنوں پر بھی لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔
،تصویر کا کیپشنانتخابات کے دوران حزب مخالف جماعتوں کی جانب سے ملک گیر پیمانے پر ہڑتال اور انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہاں دو مسلمان آپس میں محو گفتگو دیکھے جا سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپولنگ سے ایک دن قبل بنگلہ دیش میں کم از کم 100 پولنگ سٹیشنوں کو نذرِ آتش کیا گیا جب کہ انتخابات سے قبل چند ہفتوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناپوزیشن نے اس الیکشن کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔ ان کے بائیکاٹ کی وجہ سے اگرچہ وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ الیکشن میں باآسانی فتح حاصل کر لے گی لیکن انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنملک میں حفاظتی انتظامات کے تحت انتخابات کے لیے 50 ہزار سے زائد فوجی اہل کار تعینات کیے گئے۔
،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ انھیں رنگ پور اور نلفاماری کے اضلاع میں پولنگ کا سامان چھیننے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کرنا پڑی جس سے چار افراد مارے گئے۔
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش کی حزبِ مخالف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی سمیت 20 جماعتوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
،تصویر کا کیپشنملک کے دسویں عام انتخابات کے لیے پولنگ اتوار کی صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک ہوئی۔