مائیکل شوماکر

شہرۂ آفاق کار ریسر کی فتوحات پر ایک نظر

مائیکل شوماکر نے فارمولا ون ریسنگ میں قدم 1991 میں رکھا اور جلد ہی اپنا سکہ منوا لیا۔
،تصویر کا کیپشنمائیکل شوماکر نے فارمولا ون ریسنگ میں قدم 1991 میں رکھا اور جلد ہی اپنا سکہ منوا لیا۔
انھوں نے اپنا سب سے پہلا مقابلہ 1994 میں جیتا جب وہ بینیٹن کی ٹیم میں شامل تھے۔
،تصویر کا کیپشنانھوں نے اپنا سب سے پہلا مقابلہ 1994 میں جیتا جب وہ بینیٹن کی ٹیم میں شامل تھے۔
اگلے ہی سال فراری ٹیم میں ہوتے ہوئے انہوں نے دوسرا ٹائٹل جیتا۔ اس کے ساتھ ان کا شمار ریسنگ کی دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہونے لگا۔
،تصویر کا کیپشناگلے ہی سال فراری ٹیم میں ہوتے ہوئے انہوں نے دوسرا ٹائٹل جیتا۔ اس کے ساتھ ان کا شمار ریسنگ کی دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہونے لگا۔
شوماکر سات بار فارمولا ون کار ریسنگ چیمپیئن رہ چکے ہیں اور اس کے علاوہ 19 سالہ کریئر میں 91 کار ریس مقابلوں کے فاتح رہے۔
،تصویر کا کیپشنشوماکر سات بار فارمولا ون کار ریسنگ چیمپیئن رہ چکے ہیں اور اس کے علاوہ 19 سالہ کریئر میں 91 کار ریس مقابلوں کے فاتح رہے۔
شوماکر کا شمار فارمولا ون کی تاریخ کے کامیاب ترین ریس ڈرائیوروں میں کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنشوماکر کا شمار فارمولا ون کی تاریخ کے کامیاب ترین ریس ڈرائیوروں میں کیا جاتا ہے۔
ریسنگ ٹریک پر شوماکر کو جارحانہ ڈرائیور کے طور پر جانا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنریسنگ ٹریک پر شوماکر کو جارحانہ ڈرائیور کے طور پر جانا جاتا ہے۔
سنہ 2000 سے وہ پانچ سال لگاتار ٹائٹل جیتے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 2000 سے وہ پانچ سال لگاتار ٹائٹل جیتے۔
شوماکر نے سنہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن 2010 میں وہ دوبارہ دنیا کے تیز ترین کھیل میں واپس آئے اور اس بار وہ مرسیڈیز کی ٹیم میں شامل تھے۔
،تصویر کا کیپشنشوماکر نے سنہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن 2010 میں وہ دوبارہ دنیا کے تیز ترین کھیل میں واپس آئے اور اس بار وہ مرسیڈیز کی ٹیم میں شامل تھے۔
اتوار کو شوماکر اپنے 14 سالہ بیٹے اور دیگر افراد کے ساتھ سکیئنگ کر رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشناتوار کو شوماکر اپنے 14 سالہ بیٹے اور دیگر افراد کے ساتھ سکیئنگ کر رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہو گئے۔