بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ’ہاف وڈوز‘

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی ہاف وڈوز۔۔۔عابد بٹ کی جانب سے لی گئی یہ ایسی خواتین کی تصاویر ہیں جنہیں ’ہاف وڈو‘ کہا جاتا ہے ان عورتوں کے شوہر لاپتہ ہیں جنہیں مردہ قرار نہیں دیا گیا۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حلیمہ بیگم جیسی متعدد خواتین ہیں جن کے شوہر لاپتہ ہیں اور انہیں مردہ بھی قرار نہیں دیا گیا۔ انھیں مبینہ طور پر سکیورٹی دستوں نے گرفتار کیا ہے جو کشمیر میں شدت پسندوں سے لڑ رہے ہیں۔ (تصاویر: عابد بھٹ)
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حلیمہ بیگم جیسی متعدد خواتین ہیں جن کے شوہر لاپتہ ہیں اور انہیں مردہ بھی قرار نہیں دیا گیا۔ انھیں مبینہ طور پر سکیورٹی دستوں نے گرفتار کیا ہے جو کشمیر میں شدت پسندوں سے لڑ رہے ہیں۔ (تصاویر: عابد بھٹ)
طاہرہ بیگم کے شوہر طارق احمد 2002 میں لاپتہ ہوئے تھے۔ وہ کام سے دارالحکومت دلی کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن واپس نہیں آئے۔ طاہرہ اب بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہیں اور ان کے دو بیٹے یتیموں کے لیے بنائے گئے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنطاہرہ بیگم کے شوہر طارق احمد 2002 میں لاپتہ ہوئے تھے۔ وہ کام سے دارالحکومت دلی کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن واپس نہیں آئے۔ طاہرہ اب بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہیں اور ان کے دو بیٹے یتیموں کے لیے بنائے گئے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
راجہ بیگم کے شوہر علی محمد وار قالینوں کا کام کرتے تھے۔ وہ 1999 میں اپنی بھتیجی کی شادی کے لیے تحفہ خریدنے گئے تھے اور آج تک واپس نہیں آئے۔ راجا نے انھیں جیلوں، فوجی کیمپوں اور حراستی مراکز سمیت ہر جگہ تلاش کیا۔ طاہرہ کے چھ بچے ہیں اور گزر بسر کے لیے وہ دستکاری کا کام کرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنراجہ بیگم کے شوہر علی محمد وار قالینوں کا کام کرتے تھے۔ وہ 1999 میں اپنی بھتیجی کی شادی کے لیے تحفہ خریدنے گئے تھے اور آج تک واپس نہیں آئے۔ راجا نے انھیں جیلوں، فوجی کیمپوں اور حراستی مراکز سمیت ہر جگہ تلاش کیا۔ طاہرہ کے چھ بچے ہیں اور گزر بسر کے لیے وہ دستکاری کا کام کرتی ہیں۔
ان میں سے میمونہ جیسی بہت سی ’ہاف وِڈوز‘ لاپتہ افراد کے والدین کی جانب سے بنائی گئی تنظیم کے بینر تلے چلنے والی مہم میں شریک ہیں۔ جس وقت 1999 میں میمونہ کے شوہراختر حسین بھٹ لاپتہ ہوئے تو میمونہ کی عمر 23 سال تھی۔ وہ پیشے سے درزی تھے۔
،تصویر کا کیپشنان میں سے میمونہ جیسی بہت سی ’ہاف وِڈوز‘ لاپتہ افراد کے والدین کی جانب سے بنائی گئی تنظیم کے بینر تلے چلنے والی مہم میں شریک ہیں۔ جس وقت 1999 میں میمونہ کے شوہراختر حسین بھٹ لاپتہ ہوئے تو میمونہ کی عمر 23 سال تھی۔ وہ پیشے سے درزی تھے۔
جمیلہ بیگم کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر مقامی ٹیچر تھے۔ وہ اس وقت سے غائب ہیں جب 1995 میں ایک بھارتی فوجی نے انھیں حراست میں لیا تھا۔ جمیلہ اب اپنے ایک بیٹے اور بیٹی کے ساتھ اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجمیلہ بیگم کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر مقامی ٹیچر تھے۔ وہ اس وقت سے غائب ہیں جب 1995 میں ایک بھارتی فوجی نے انھیں حراست میں لیا تھا۔ جمیلہ اب اپنے ایک بیٹے اور بیٹی کے ساتھ اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں۔
دلشادہ کے شوہر ایک پینٹر تھے جو 1992 سے لاپتہ ہیں۔ دلشادہ اب اپنے تین بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کپڑوں کی سِلائی کرتی ہیں۔ انھیں ذیابیطس کا مرض ہے جس کی وجہ سے ان کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشندلشادہ کے شوہر ایک پینٹر تھے جو 1992 سے لاپتہ ہیں۔ دلشادہ اب اپنے تین بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کپڑوں کی سِلائی کرتی ہیں۔ انھیں ذیابیطس کا مرض ہے جس کی وجہ سے ان کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔
میمونہ کے شوہر لکڑیوں کا کاروبار کرتے تھے جو 1992 میں ایک دن کام کے لیے باہر نکلے تھے اور اس وقت سے غائب ہیں۔اُن کے پانچ بچے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیمونہ کے شوہر لکڑیوں کا کاروبار کرتے تھے جو 1992 میں ایک دن کام کے لیے باہر نکلے تھے اور اس وقت سے غائب ہیں۔اُن کے پانچ بچے ہیں۔