منڈیلا کی کھیل کے میدانوں میں یادگار تصاویر

نیلسن منڈیلا کھیلوں سے بے حد شغف رکھتے تھے

نیلسن منڈیلا کی یہ تصویر 1950 میں لی گئی۔ منڈیلا نے ملک سے نسل پرستی کے خاتمے اور جنوبی افریقہ کو ایک جمہوری ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا کی یہ تصویر 1950 میں لی گئی۔ منڈیلا نے ملک سے نسل پرستی کے خاتمے اور جنوبی افریقہ کو ایک جمہوری ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جوہانسبرگ 1995: جب جنوبی افریقہ نے رگبی ورلڈ کپ میں فتح حاصل کی تو منڈیلا نے ملک کی رگبی ٹیم کے سفید فام کپتان فرانکو پینار کو کپ پیش کیا۔
،تصویر کا کیپشنجوہانسبرگ 1995: جب جنوبی افریقہ نے رگبی ورلڈ کپ میں فتح حاصل کی تو منڈیلا نے ملک کی رگبی ٹیم کے سفید فام کپتان فرانکو پینار کو کپ پیش کیا۔
منڈیلا کے دورِ حکومت میں جنوبی افریقہ کی فٹ بال ٹیم نے افریقن نیشنل فٹبال کپ بھی جیت لیا۔
،تصویر کا کیپشنمنڈیلا کے دورِ حکومت میں جنوبی افریقہ کی فٹ بال ٹیم نے افریقن نیشنل فٹبال کپ بھی جیت لیا۔
نیلسن منڈیلا نے باکسنگ کے ہیوی چیمپیئن لینوکس لیوس سے کئی بار ملاقات کی۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا نے باکسنگ کے ہیوی چیمپیئن لینوکس لیوس سے کئی بار ملاقات کی۔
انگلینڈ کے عظیم فٹ بال کھلاڑی ڈیوڈ بیکہم نے 2003 میں نیلسن منڈیلا سے ملاقات کی تھی۔
،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کے عظیم فٹ بال کھلاڑی ڈیوڈ بیکہم نے 2003 میں نیلسن منڈیلا سے ملاقات کی تھی۔
نیلسن منڈیلا 2004 میں اولمپک ٹارچ کو اٹھا کر روبن جزیرے کی اس جیل میں کھڑے ہیں جہاں انھیں 17 برس تک قید رکھا گیا۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا 2004 میں اولمپک ٹارچ کو اٹھا کر روبن جزیرے کی اس جیل میں کھڑے ہیں جہاں انھیں 17 برس تک قید رکھا گیا۔
نیلسن منڈیلا اس تصویر میں وہ فٹ بال کے عظیم برازیلی کھلاڑی پیلے اور افریقی ملک کیمرون کے کھلاڑی سیموئل ایتو سے ملاقات کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا اس تصویر میں وہ فٹ بال کے عظیم برازیلی کھلاڑی پیلے اور افریقی ملک کیمرون کے کھلاڑی سیموئل ایتو سے ملاقات کر رہے ہیں۔
نیلسن منڈیلا 2010 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں سپین اور ہالینڈ کا میچ دیکھنے میدان میں آئے۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا 2010 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں سپین اور ہالینڈ کا میچ دیکھنے میدان میں آئے۔