فورڈ موٹرز کی مسٹینگ

فورڈ کی مسٹینگ دنیا بھر میں فورڈ کی سفارتکار

فورڈ موٹرز نے مختلف ممالک کے چھ شہروں میں مسٹینگ گاڑی کے نئے ماڈل کی رونمائی کی ہے۔ ان شہروں میں نیو یارک، ڈئربرن، مشیگن، لاس اینجلیس، شنگھائی، سڈنی اور بارسلونا شامل ہیں۔ فورڈ موٹرز کو امید ہے کہ اس گاڑی کی تاریخ امریکہ سے باہر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرسکے گی۔ مسٹینگ باضابطہ طور پر 1979 سے امریکہ سے باہر نہیں بیچی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنفورڈ موٹرز نے مختلف ممالک کے چھ شہروں میں مسٹینگ گاڑی کے نئے ماڈل کی رونمائی کی ہے۔ ان شہروں میں نیو یارک، ڈئربرن، مشیگن، لاس اینجلیس، شنگھائی، سڈنی اور بارسلونا شامل ہیں۔ فورڈ موٹرز کو امید ہے کہ اس گاڑی کی تاریخ امریکہ سے باہر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرسکے گی۔ مسٹینگ باضابطہ طور پر 1979 سے امریکہ سے باہر نہیں بیچی گئی ہے۔
اس نئے ماڈل کے ساتھ فورڈ موٹرز نے کئی مشہور امریکی گاڑیوں کو بھی نئے انداز میں پیش کیا ہے۔ ان گاڑیوں میں کرائسلر کی چیلنجر (تصویر میں) اور چارجر اور جنرل موٹر کی کمارو اور کورویٹ۔
،تصویر کا کیپشناس نئے ماڈل کے ساتھ فورڈ موٹرز نے کئی مشہور امریکی گاڑیوں کو بھی نئے انداز میں پیش کیا ہے۔ ان گاڑیوں میں کرائسلر کی چیلنجر (تصویر میں) اور چارجر اور جنرل موٹر کی کمارو اور کورویٹ۔
مسٹینگ کو پہلی بار 1964 میں فروخت کے لیے متعارف کرایا گیا۔ اسی سال پونٹئیک کی جی ٹی او جس کو جنرل موٹرز نے بنایا تھا بھی فروخت کے لیے پیش کی گئی۔ جی ٹی او (تصویر میں) پہلی گاڑی تھی جو ایک طاقتور گاڑی تھی جس کو ’مسل کار‘ کا نام دیا گیا اور جس کو بڑی تعداد میں بنایا گیا۔ پونٹیئیک کی اشتہاری ٹیم میں شامل جِم وینگرز کا کہنا ہے ’جی ٹی او ایسے افراد کے لیے بنائی گئی تھی جو کچھ غیر معمولی چاہتے ہو اور جو تھوڑا خطرناک طریقے سے گاڑی چلانا چاہتے ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشنمسٹینگ کو پہلی بار 1964 میں فروخت کے لیے متعارف کرایا گیا۔ اسی سال پونٹئیک کی جی ٹی او جس کو جنرل موٹرز نے بنایا تھا بھی فروخت کے لیے پیش کی گئی۔ جی ٹی او (تصویر میں) پہلی گاڑی تھی جو ایک طاقتور گاڑی تھی جس کو ’مسل کار‘ کا نام دیا گیا اور جس کو بڑی تعداد میں بنایا گیا۔ پونٹیئیک کی اشتہاری ٹیم میں شامل جِم وینگرز کا کہنا ہے ’جی ٹی او ایسے افراد کے لیے بنائی گئی تھی جو کچھ غیر معمولی چاہتے ہو اور جو تھوڑا خطرناک طریقے سے گاڑی چلانا چاہتے ہوں۔‘
فورڈ کی مسٹینگ جی ٹی او سے مختلف تھی۔ اس گاڑی کو ’پونی کار‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اس گاڑی کے نشان کے طور پر گھوڑے کی تصویر ہے۔ جِم ویگنر کا کہنا ہے ’مسٹینگ سٹائل کے لحاظ سے بہت اچھی گاڑی تھی۔ لیکن یہ گاڑی اتنی طاقتور نہیں تھی۔ تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان دونوں گاڑیوں کا مقابلہ تو تھا لیکن دونوں مختلف تھیں۔‘
،تصویر کا کیپشنفورڈ کی مسٹینگ جی ٹی او سے مختلف تھی۔ اس گاڑی کو ’پونی کار‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اس گاڑی کے نشان کے طور پر گھوڑے کی تصویر ہے۔ جِم ویگنر کا کہنا ہے ’مسٹینگ سٹائل کے لحاظ سے بہت اچھی گاڑی تھی۔ لیکن یہ گاڑی اتنی طاقتور نہیں تھی۔ تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان دونوں گاڑیوں کا مقابلہ تو تھا لیکن دونوں مختلف تھیں۔‘
مسٹینگ گاڑی جنگ کے بعد ان خاندانوں کے لیے بنائی گئی تھی جو ایک ذاتی گاڑی چاہتے ہوں۔ یہ گاڑی فوری طور پر بہت مشہور ہوئی۔ 1966 تک دس لاکھ گاڑیاں فروخت ہو چکی تھی۔ اس کو دیکھتے ہوئے شیورلے نے کمارو ماڈل لانچ کیا۔
،تصویر کا کیپشنمسٹینگ گاڑی جنگ کے بعد ان خاندانوں کے لیے بنائی گئی تھی جو ایک ذاتی گاڑی چاہتے ہوں۔ یہ گاڑی فوری طور پر بہت مشہور ہوئی۔ 1966 تک دس لاکھ گاڑیاں فروخت ہو چکی تھی۔ اس کو دیکھتے ہوئے شیورلے نے کمارو ماڈل لانچ کیا۔
جِم وینگرز کا کہنا ہے کہ مسٹینگ ایک مثالی، کھلی اور محفوظ گاڑی تھی۔ ’ایک طرف جہاں یہ گاڑی لطف کی شبیہہ تھی تو دوسری طرف یہ ایک ایسی گاڑی کی شبیہہ بھی دیتی تھی جس پر انحصار کیا جاسکتا ہو۔‘
،تصویر کا کیپشنجِم وینگرز کا کہنا ہے کہ مسٹینگ ایک مثالی، کھلی اور محفوظ گاڑی تھی۔ ’ایک طرف جہاں یہ گاڑی لطف کی شبیہہ تھی تو دوسری طرف یہ ایک ایسی گاڑی کی شبیہہ بھی دیتی تھی جس پر انحصار کیا جاسکتا ہو۔‘
مسٹینگ اور جی ٹی او امریکی پوپ کلچر کا حصہ بن گئیں۔ مسٹینگ تین ہزار ٹی وی سو اور فلموں میں آئی۔ سب سے یادگار فلم تھی 1968 کی ’بُل اِٹ‘ جس میں اداکار سٹیو میک کوئن گاڑی میں ریس لگاتے ہوئے دکھائے گئے۔ یہ تصویر ڈوج چارجر کی ہے۔ یہ گاڑی امریکی کلاسک ٹی وی شو ڈیوکس آف ہیزرڈ میں آئی۔
،تصویر کا کیپشنمسٹینگ اور جی ٹی او امریکی پوپ کلچر کا حصہ بن گئیں۔ مسٹینگ تین ہزار ٹی وی سو اور فلموں میں آئی۔ سب سے یادگار فلم تھی 1968 کی ’بُل اِٹ‘ جس میں اداکار سٹیو میک کوئن گاڑی میں ریس لگاتے ہوئے دکھائے گئے۔ یہ تصویر ڈوج چارجر کی ہے۔ یہ گاڑی امریکی کلاسک ٹی وی شو ڈیوکس آف ہیزرڈ میں آئی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ مسٹینگ، کورویٹ، کمارو اور دیگر امریکی گاڑیاں امریکہ میں بہت مشہور ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ گاڑیاں بیرون ملک بھی وہ توجہ حاصل کر پائیں گی۔ جنرل موٹرز نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا شیورلے برانڈ یورپ سے واپس منگوا لے گا کیونکہ اس کی فروخت توقعات سے بہت کم رہی۔
،تصویر کا کیپشناس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ مسٹینگ، کورویٹ، کمارو اور دیگر امریکی گاڑیاں امریکہ میں بہت مشہور ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ گاڑیاں بیرون ملک بھی وہ توجہ حاصل کر پائیں گی۔ جنرل موٹرز نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا شیورلے برانڈ یورپ سے واپس منگوا لے گا کیونکہ اس کی فروخت توقعات سے بہت کم رہی۔
لیکن فورڈ کا کہنا ہے کہ مسٹینگ کی مشہوری چین تک ہے جہاں پر متوسط طبقہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایڈمنڈز ڈاٹ کام کی سینییر تجزیہ کار مشیل کریبز کا کہنا ہے ’فورڈ کی مسٹینگ کی مشہور گاڑی ہے جس کو امریکہ میں ہر ایک جانتا ہے۔ میرے خیال میں یہ گاڑی پوری دنیا میں فورڈ کی سفارتکار ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنلیکن فورڈ کا کہنا ہے کہ مسٹینگ کی مشہوری چین تک ہے جہاں پر متوسط طبقہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایڈمنڈز ڈاٹ کام کی سینییر تجزیہ کار مشیل کریبز کا کہنا ہے ’فورڈ کی مسٹینگ کی مشہور گاڑی ہے جس کو امریکہ میں ہر ایک جانتا ہے۔ میرے خیال میں یہ گاڑی پوری دنیا میں فورڈ کی سفارتکار ہے۔‘