،تصویر کا کیپشن1982 میں فوٹو گرافر ڈیوڈ کونسٹنٹائن کو ایک حادثہ پیش آیا جس میں ان کا آدھا دھڑ مفلوج ہو کر رہ گیا۔ مفلوج ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے کیمرے اور وہیل چیئر پر دنیا کا سفر جاری رکھا اور بحرانوں کا شکار ملکوں اور معاشروں کی تصاویر بنائیں۔ (کولمبو، سری لنکا، 1996)
،تصویر کا کیپشنکونسٹینٹائن کی تصاویر نِک ڈینزگر اور جسٹن پارٹیکا کی تصاویر کے ساتھ لندن کی ایک نمائش میں پیش کی جائیں گی۔ اس نمائش میں صحافتی فوٹو گرافی اور سیاحتی فوٹوگرافی کے ذریعے قصہ گوئی پر نظر ڈالی جائے گی۔
(میکسیکو سٹی، میکسیکو، 1990)
،تصویر کا کیپشننمائش کی منتظم جیسکا مندر کا کہنا ہے: ’ڈیوڈ وہیل چیئر تک محدود تھے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تصویر بنانے کا زاویہ مختلف ہوتا ہے۔ تصاویر کھنچوانے والے ان کی طرف عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں نہ کہ ہمدردی اور رحم کی نگاہ سے۔‘ (حیات آباد، پاکستان، 1990)
،تصویر کا کیپشنکونسٹینٹائن کا کہنا ہے انھیں عہد حاضر سے بہت دلچسپی ہے اور وہ اس میں زندہ لوگوں کی تصاویر بناتے ہیں۔ (پوزن، پولینڈ، 1992 )
،تصویر کا کیپشناس نمائش میں ڈینزگر کی انڈیا میں کمبھ میلے میں بنائی ہوئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ اس تصویر میں ہندو سادھو صبح سویرے گنگا میں اشنان کی تیاری کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنڈینزگر کا کہنا ہے کہ ان کا ارادہ تھا کہ وہ صرف انسانوں کے اجتماع اور سادھوؤں کے رسومات ادا کرنے کی تصویروں نہ بنائیں بلکہ اس کے آگے جا کر کچھ عکس بندی بھی کریں۔
،تصویر کا کیپشنجیسن پارٹیکا کی تصاویر میں انگلینڈ کے ایسٹ اینگلیا کے علاقے میں دیہی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ (سفک، انگلینڈ، 2004)
،تصویر کا کیپشنپارٹیکا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان دیہی علاقوں کے مناظر کی تصاویر کھینچی ہیں جو لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ پہروں کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کو دیکھتے رہتے تھے اور زمین اور ان کے درمیان رشتے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ (نارفک، انگلینڈ میں چوقندر کا کھیت، 2006)
،تصویر کا کیپشنتین فوٹوگرافروں کی تصاویر کی نمائش جو چار سے 21 دسمبر تک جاری رہے گی۔ (جسٹن پارٹیکا کی تصویر: نارفک، انگلینڈ، 2006)