عراقی باپ نے بیٹی جوئے میں ہار دی

گھریلو تشدد کی وجہ سے خواتین کی خودکشیاں یا خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات عام: تصاویر

پچیس نومبر کو دنیا میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا دن منایا جا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپچیس نومبر کو دنیا میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا دن منایا جا رہا ہے۔
فوٹوگرافر سارہ مالین کرسچیئن ایڈ اور شریک ادارے اسوڈا سے مل کر عراق میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے بارے میں کام کر رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنفوٹوگرافر سارہ مالین کرسچیئن ایڈ اور شریک ادارے اسوڈا سے مل کر عراق میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے بارے میں کام کر رہی ہیں۔
دنیا کے لیے شمالی عراق میں کرد علاقہ جنگ زدہ ملک کا سب سے محفوظ حصہ ہے لیکن مقامی خواتین کے لیے یہ ایسا نہیں۔ غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد کی وجہ سے خواتین کی خودکشیاں یا خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات یہاں عام ہیں۔
،تصویر کا کیپشندنیا کے لیے شمالی عراق میں کرد علاقہ جنگ زدہ ملک کا سب سے محفوظ حصہ ہے لیکن مقامی خواتین کے لیے یہ ایسا نہیں۔ غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد کی وجہ سے خواتین کی خودکشیاں یا خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات یہاں عام ہیں۔
شمالی عراق میں بعض اوقات ایک خاتون کا والد، خاوند یا بھائی ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا وہ تعلیم حاصل کرے گی یا نہیں، یا وہ کام کرے گی یا پھر اس کی شادی کس سے ہوگی۔ کچھ خواتین کے پاس ان کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔ اس خاتون کے شوہر نے اس کے پاؤں کی انگلیاں کاٹ ڈالیں۔
،تصویر کا کیپشنشمالی عراق میں بعض اوقات ایک خاتون کا والد، خاوند یا بھائی ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا وہ تعلیم حاصل کرے گی یا نہیں، یا وہ کام کرے گی یا پھر اس کی شادی کس سے ہوگی۔ کچھ خواتین کے پاس ان کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔ اس خاتون کے شوہر نے اس کے پاؤں کی انگلیاں کاٹ ڈالیں۔
22 سالہ ہیرو جب 18 برس کی تھیں تو دو افراد نے ان سے جنسی زیادتی کی۔ جن ان کے اہلخانہ کو ان کے حاملہ ہونے کا پتہ چلا تو انہوں نے اسے مارنے کی کوشش کی۔ اس صورتحال میں ہیرو نے گھر چھوڑ دیا۔ اب وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ حکومتی نگرانی میں چلنے والے دارالامان میں رہنے پر مجبور ہیں۔
،تصویر کا کیپشن22 سالہ ہیرو جب 18 برس کی تھیں تو دو افراد نے ان سے جنسی زیادتی کی۔ جن ان کے اہلخانہ کو ان کے حاملہ ہونے کا پتہ چلا تو انہوں نے اسے مارنے کی کوشش کی۔ اس صورتحال میں ہیرو نے گھر چھوڑ دیا۔ اب وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ حکومتی نگرانی میں چلنے والے دارالامان میں رہنے پر مجبور ہیں۔
اسوڈا نے ہیرو کو ان سے جنسی زیادتی کرنے والے افراد کے خلاف قانونی جنگ لڑنے اور اپنے سابقہ خاوند سے خلع لینے میں مدد فراہم کی۔
،تصویر کا کیپشناسوڈا نے ہیرو کو ان سے جنسی زیادتی کرنے والے افراد کے خلاف قانونی جنگ لڑنے اور اپنے سابقہ خاوند سے خلع لینے میں مدد فراہم کی۔
ثنا 14 برس کی تھیں جب ان کے والد نے ان کی بڑی بہن کو جوئے میں ہار دیا۔ اس پر ثنا کی والدہ نے خودکشی کر لی۔ ان کے والد نے دوبارہ شادی کی تو ان کی نئی اہلیہ نے ثنا اور ان کی دو چھوٹی بہنوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ان پر ابلتا ہوا پانی اور گرم تیل پھینکا اور ان پر گولیاں بھی چلائیں۔
،تصویر کا کیپشنثنا 14 برس کی تھیں جب ان کے والد نے ان کی بڑی بہن کو جوئے میں ہار دیا۔ اس پر ثنا کی والدہ نے خودکشی کر لی۔ ان کے والد نے دوبارہ شادی کی تو ان کی نئی اہلیہ نے ثنا اور ان کی دو چھوٹی بہنوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ان پر ابلتا ہوا پانی اور گرم تیل پھینکا اور ان پر گولیاں بھی چلائیں۔
ثنا کی دو بہنیں تو اس تشدد کی وجہ سے ماری گئیں جبکہ ثنا کے چہرے، بازوؤں اور جسم پر تشدد کے نشان پڑ گئے۔ ان کی دائیں آنکھ ضائع ہوگئی اورگولی کے زخم کے علاج کے لیے ان کی کھوپڑی کا آپریشن کرنا پڑا۔ ان کے پاس اپنے خاندان کی یادوں میں صرف اپنی بہن کی تصویر اور والدہ کا سکارف ہے۔
،تصویر کا کیپشنثنا کی دو بہنیں تو اس تشدد کی وجہ سے ماری گئیں جبکہ ثنا کے چہرے، بازوؤں اور جسم پر تشدد کے نشان پڑ گئے۔ ان کی دائیں آنکھ ضائع ہوگئی اورگولی کے زخم کے علاج کے لیے ان کی کھوپڑی کا آپریشن کرنا پڑا۔ ان کے پاس اپنے خاندان کی یادوں میں صرف اپنی بہن کی تصویر اور والدہ کا سکارف ہے۔
اسوڈا کے کام کی وجہ سے عراقی حکومت نے 2011 میں گھریلو تشدد کا قانون منظور کیا جس میں پہلی مرتبہ غیرت کے نام پر ہلاکت کو قتل قرار دیا گیا۔ آج بھی اسوڈا کی پناہ گاہ وہ واحد پناہ گاہ ہے جہاں داخلے کے لیے خواتین کو پولیس کی سفارش درکار نہیں ہوتی۔
،تصویر کا کیپشناسوڈا کے کام کی وجہ سے عراقی حکومت نے 2011 میں گھریلو تشدد کا قانون منظور کیا جس میں پہلی مرتبہ غیرت کے نام پر ہلاکت کو قتل قرار دیا گیا۔ آج بھی اسوڈا کی پناہ گاہ وہ واحد پناہ گاہ ہے جہاں داخلے کے لیے خواتین کو پولیس کی سفارش درکار نہیں ہوتی۔