طورخم کے مقام پر پاکستان اور افغان کی سرحد بند ہونے سے وہاں ٹرکوں کی قطاریں لگ گئیں
،تصویر کا کیپشنتحریکِ انصاف کی جانب سے نیٹو سپلائی روکے جانے کے اعلان کے بعد طورخم کے مقام پر پاکستان اور افغان کی سرحد بند کر دی گئی جس سے وہاں ٹرکوں کی قطاریں لگ گئیں: (تصاویر ولی خان شنواری)
،تصویر کا کیپشنٹرانسپورٹ تنظیموں کا کہنا ہے کہ معمول کے دنوں میں روزانہ سات ہزار کے قریب گاڑیوں کی افغانستان اور پاکستان کے درمیان آمدورفت ہوتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کو خوراک اور جنگی سازو سامان کی فراہمی کا 70 فیصد حصہ طورخم سر حد کے راستے افغانستان پہنچایا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مطابق ہر ماہ پانچ سے دس ہزار ٹرک نیٹو فورسز کے لیے سامان رسد پہنچانے کے کاروبار سے منسلک ہیں اور سپلائی کی بندش سے ڈیڑھ لاکھ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن نے بھی تحریکِ انصاف کے دھرنے کے دوران ڈرائیوروں پر تشدد کے واقعات کے بعد پاکستان سے افغانستان جانے والے تمام سامان کی ترسیل تحفظ فراہم ہونے تک روک دی ہے۔
،تصویر کا کیپشنآل پاکستان کمبائنڈ ٹرکس اینڈ ٹرالرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل حمایت علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس وقت 1500 کے قریب گاڑیاں افغانستان میں پھنس گئی ہیں اور اتنی ہی تعداد میں پاکستان میں موجود ٹرکوں اور ٹرالروں پر سامان لدا ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکراچی سے اتحادی افواج کے علاوہ، اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان ٹرالروں اور ٹرکوں کے ذریعہ طورخم اور چمن کے راستے افغانستان پہنچایا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان نے گزشتہ برس بھی سلالہ چوکی پر امریکی حملے کے بعد سات ماہ تک نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی بند رکھی تھی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں افغانستان سامان کی ترسیل کا کاروبار منافع بخش ہونے کے ساتھ پر خطر بھی ہے۔ ساؤتھ ایشیا ٹیرورزم پورٹل کے مطابق گذشتہ چھ سال میں نیٹو کا سامان اور تیل لے جانے والی 288 گاڑیوں پر حملے کیے گئے جن میں 138 افراد ہلاک اور 235 زخمی ہوئے۔