لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے قریب دھماکوں کے بعد کے مناظر۔
،تصویر کا کیپشنلبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے قریب دو دھماکوں میں 22 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں ایرانی کے ثقافتی اثاشی ابراہیم انصاری بھی شامل ہیں اور حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشندھماکے سے سفارتخانے کے اردگرد کی عمارتوں اور وہاں موجود گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔
،تصویر کا کیپشنایران لبنانی شیعہ مسلح گروہ حزب اللہ کا اہم حامی ہے اور حزب اللہ نے شام میں جاری خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی امداد کے لیے جنگجو شام بھیجے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ ایک خودکش حملہ آور نے کیا جبکہ دوسرا دھماکہ ایک کار بم کی مدد سے کیا گیا جس سے قدرے زیادہ نقصان ہوا۔ تاہم ان اطلاعات کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
،تصویر کا کیپشنخبر رساں ادارے روئٹرز نے لبنانی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص کو ایرانی سفارتخانے کی دیوار کی جانب بھاگتے اور پھر دھماکہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن
لبنان میں ایرانی سفیر نے حزب اللہ کے المنار ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اپنے ثقافتی اتاشی کی ہلاکت کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ وہ سفارتخانے میں تھے یا دیگر ملحقہ عمارتوں میں۔
،تصویر کا کیپشنشامی حکومت نے بھی اس دھماکے کی مذمت کی ہے۔ یہ دھماکہ جنوبی بیروت کے اس علاقے میں ہوا جو حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔