کرفیو ختم مگر غیر یقینی صورتحال

راولپنڈی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ہلاک شدہ 3 افراد کی تدفین، حکام کی جانب سے کرفیو اٹھانے کا اعلان

چیف کیپیٹل سٹی پولیس راولپنڈی صدیق کمیانہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے مذاکرات کے بعد فرقہ وارانہ تصادم میں ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ لیاقت باغ میں پڑھنے کی اجازت دی۔
،تصویر کا کیپشنچیف کیپیٹل سٹی پولیس راولپنڈی صدیق کمیانہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے مذاکرات کے بعد فرقہ وارانہ تصادم میں ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ لیاقت باغ میں پڑھنے کی اجازت دی۔
راولپنڈی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے تین افراد کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنراولپنڈی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے تین افراد کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے تین افراد کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں تنظیم اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی اور وفاق المدارس العربیہ کے رہنما قاری حنیف جالندھری کے علاوہ دوسرے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنجمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے تین افراد کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں تنظیم اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی اور وفاق المدارس العربیہ کے رہنما قاری حنیف جالندھری کے علاوہ دوسرے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
کرفیو سے متاثرہ علاقوں میں محصور افراد کی جانب سے اشیائے خورد و نوش کی قلت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں جبکہ کئی افراد نے خوف کے مارے بیوی بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔
،تصویر کا کیپشنکرفیو سے متاثرہ علاقوں میں محصور افراد کی جانب سے اشیائے خورد و نوش کی قلت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں جبکہ کئی افراد نے خوف کے مارے بیوی بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔
راولپنڈی شہر کی جانب جانے والے مرکزی راستے بند ہیں اور مختلف مقامات پر فوج تعینات ہے جو آمدورفت کے راستوں کی نگرانی کر رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنراولپنڈی شہر کی جانب جانے والے مرکزی راستے بند ہیں اور مختلف مقامات پر فوج تعینات ہے جو آمدورفت کے راستوں کی نگرانی کر رہی ہے۔
راولپنڈی کے جڑواں شہر وفاقی دارالحکومت میں بھی تناؤ محسوس کیا جا سکتا تھا اور غیر معمولی سکیورٹی اور چیکنگ کے ساتھ ساتھ سنیچر کی رات ایک بجے سے اتوار دوپہر تک موبائل فون سروس بھی بند کی گئی۔
،تصویر کا کیپشنراولپنڈی کے جڑواں شہر وفاقی دارالحکومت میں بھی تناؤ محسوس کیا جا سکتا تھا اور غیر معمولی سکیورٹی اور چیکنگ کے ساتھ ساتھ سنیچر کی رات ایک بجے سے اتوار دوپہر تک موبائل فون سروس بھی بند کی گئی۔