،تصویر کا کیپشنلندن کے برٹش میوزیم میں ایک نمائش جاری ہے جس میں قدیم کولمبیا میں اقتدار کی طاقت، سونے کے کردار اور ان دونوں چیزوں کے باہمی تعلق کی عکاسی کی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنصدیوں تک یورپی لوگ اس جنوبی امریکہ میں ایک سونے سے مالامال گمشدہ شہر کی دیومالائی کہانیوں پر محوِ حیرت رہ جاتے تھے۔ لیکن نمائش میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس افسانے کے پیچھے چھپی حقیقت اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔
،تصویر کا کیپشن’ایل ڈوراڈو‘ کا لفظی مطلب ہے ’سنہری دور۔‘ اصل میں اس سے مراد اس رسم سے ہے جسے کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا کے قریب گاتاوتا جھیل کے پاس ادا کیا جاتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں میوسكا تہذیب کے لیڈر جسم پر سونے کا سفوف چھڑک کر جھیل میں غوطہ لگاتے تھے اور نئے لیڈر کے طور پر ابھرتے تھے۔
،تصویر کا کیپشناس نمائش میں 20ویں صدی کے شروع میں اس جھیل سے ملنے والی بعض اشیا رکھی گئی ہیں
،تصویر کا کیپشنان میں سے کئی اشیا کے پہننے سے کسی شخص کی حیثیت اور رتبہ ظاہر ہوتا تھا۔
،تصویر کا کیپشنپنجے کی شکل کے ہار شمالی علاقوں میں بہت مقبول تھے۔ اس ہار کا تعلق زینو تہذیب سے تھا، اور یہ دو ہزار سال پرانا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلائم پاؤڈر رکھنے کے لیے استعمال ہونے والا یہ کنٹینر جس کا استعمال مذہبی تہواروں کے دوران کوکو کی پتیاں چبانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ اس سے قدیم كولمبيائي فنکاروں کی تکنیکی مہارت کا پتہ چلتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہسپانوی تہذیب سے قبل کولمبیا میں استعمال کیا جانے والا زیادہ تر سونا خالص نہیں ہوتا تھا بلکہ چاندی اور تانبے کا مرکب ہوتا تھا۔
،تصویر کا کیپشنآثار قدیمہ کے ماہرین کو جو چیز حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس دور میں کئی ثقافتوں میں استعمال کی گئی موم کی ٹیکنالوجی اب استعمال نہیں ہوتی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مقامی موم کی اہمیت سونے سے زیادہ تھی۔
،تصویر کا کیپشنتائرونا ثقافت میں پروہت اس قسم کے ہار پہنتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے اس جانور کی طاقت ان میں آجائے گی۔
،تصویر کا کیپشنیہ نمائش لندن کے برٹش میوزیم میں 23 مارچ 2014 تک جاری رہے گی۔