وزڈن کی ورلڈ الیون: تصاویر

وزڈن ورلڈ الیون میں انگلینڈ کے چار، ویسٹ انڈیز کے تین، آسٹریلیا کے دو اور پاکستان اور بھارت کا ایک ایک کرکٹر شامل ہے۔

کرکٹ کی بائبل قرار دیے جانے والے رسالے وزڈن نے اشاعت کے ڈیڑھ سو سال مکمل ہونے پر ورلڈ الیون کرکٹ ٹیم کا اعلان کیا ہے۔ وزڈن کی ورلڈ الیون کے لیے جیک ہوبز کو اوپنر منتخب کیا گیا ہے۔ جیک ہوبز نے 1908 سے 1930 تک انگلینڈ کی طرف سے اکسٹھ میچ کھیلے۔
،تصویر کا کیپشنکرکٹ کی بائبل قرار دیے جانے والے رسالے وزڈن نے اشاعت کے ڈیڑھ سو سال مکمل ہونے پر ورلڈ الیون کرکٹ ٹیم کا اعلان کیا ہے۔ وزڈن کی ورلڈ الیون کے لیے جیک ہوبز کو اوپنر منتخب کیا گیا ہے۔ جیک ہوبز نے 1908 سے 1930 تک انگلینڈ کی طرف سے اکسٹھ میچ کھیلے۔
وزڈن کی ورلڈ الیون کے لیے ڈبلیو جی گریس کو دوسرا اوپنر منتخب کیا گیا ہے۔ وہ انگلینڈ کی جانب سے کھیلا کرتے تھے۔ گریس نے 1880 سے 1899 تک بائیس میچ کھیلے۔
،تصویر کا کیپشنوزڈن کی ورلڈ الیون کے لیے ڈبلیو جی گریس کو دوسرا اوپنر منتخب کیا گیا ہے۔ وہ انگلینڈ کی جانب سے کھیلا کرتے تھے۔ گریس نے 1880 سے 1899 تک بائیس میچ کھیلے۔
ورلڈ الیون ٹیم میں تیسرے نمبر آسٹریلیا کے سابق کپتان ڈونلڈ بریڈمین ہیں۔ مشہورِ زمانہ بریڈمین نے 1928 سے 1948 تک 52 میچ کھیلے اور 99.94 کی اوسط سے 6996 رنز بنائے تھے۔
،تصویر کا کیپشنورلڈ الیون ٹیم میں تیسرے نمبر آسٹریلیا کے سابق کپتان ڈونلڈ بریڈمین ہیں۔ مشہورِ زمانہ بریڈمین نے 1928 سے 1948 تک 52 میچ کھیلے اور 99.94 کی اوسط سے 6996 رنز بنائے تھے۔
چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرنے کے لیے سچن ٹنڈولکر کو رکھا گیا ہے، جن کا شمار دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے 1989 سے 2013 تک ایک سو اٹھانوے میچ کھیلے اور 15837 رنز بنائے۔
،تصویر کا کیپشنچوتھے نمبر پر بیٹنگ کرنے کے لیے سچن ٹنڈولکر کو رکھا گیا ہے، جن کا شمار دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے 1989 سے 2013 تک ایک سو اٹھانوے میچ کھیلے اور 15837 رنز بنائے۔
پانچویں نمبر پر ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بیٹسمین ویویئن رچرڈز۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے 1974 سے 1991 تک 121 میچ کھیلے اور پچاس سے زیادہ اوسط کے ساتھ ساڑھے آٹھ ہزار رن بنائے۔
،تصویر کا کیپشنپانچویں نمبر پر ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بیٹسمین ویویئن رچرڈز۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے 1974 سے 1991 تک 121 میچ کھیلے اور پچاس سے زیادہ اوسط کے ساتھ ساڑھے آٹھ ہزار رن بنائے۔
ویسٹ انڈیز کے مایۂ ناز آل راؤنڈر گیری سوبرز کو چھٹے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ سوبرز نے 1954 سے 1974 تک 93 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 8032 رنز سکور کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 235 وکٹیں حاصل کیں۔
،تصویر کا کیپشنویسٹ انڈیز کے مایۂ ناز آل راؤنڈر گیری سوبرز کو چھٹے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ سوبرز نے 1954 سے 1974 تک 93 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 8032 رنز سکور کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 235 وکٹیں حاصل کیں۔
ساتویں نمبر پر آنے والے کھلاڑی انگلینڈ کے ایلن ناٹ ہیں جو وکٹ کیپر کے طور پر منتخب کیے گئے ہیں۔ ایلن انگلینڈ کی جانب سے 1967 سے 1981 تک بطور وکٹ کیپر کھیلے۔
،تصویر کا کیپشنساتویں نمبر پر آنے والے کھلاڑی انگلینڈ کے ایلن ناٹ ہیں جو وکٹ کیپر کے طور پر منتخب کیے گئے ہیں۔ ایلن انگلینڈ کی جانب سے 1967 سے 1981 تک بطور وکٹ کیپر کھیلے۔
آٹھویں نمبر پر پاکستان کے مشہور بولر وسیم اکرم ہیں جنہوں نے 1985 سے 2002 تک ایک سو چار میچوں میں 414 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآٹھویں نمبر پر پاکستان کے مشہور بولر وسیم اکرم ہیں جنہوں نے 1985 سے 2002 تک ایک سو چار میچوں میں 414 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
آسٹریلوی کھلاڑی شین وارن بھی ورلڈ الیون میں شامل ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کی جانب 1992 سے 2007 تک 145 میچ کھیلے اور 708 وکٹیں حاصل کیں۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی کھلاڑی شین وارن بھی ورلڈ الیون میں شامل ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کی جانب 1992 سے 2007 تک 145 میچ کھیلے اور 708 وکٹیں حاصل کیں۔
ویسٹ انڈیم کے فاسٹ بولر میلکم مارشل بھی ٹیم میں شامل ہیں اور انہوں نے 81 ٹیسٹ میچوں میں 376 وکٹیں حاصل کیں۔
،تصویر کا کیپشنویسٹ انڈیم کے فاسٹ بولر میلکم مارشل بھی ٹیم میں شامل ہیں اور انہوں نے 81 ٹیسٹ میچوں میں 376 وکٹیں حاصل کیں۔
ورلڈ الیون کے لیے سلیکٹ کی گئی ٹیم میں آخری نمبر پر انگلینڈ کے سڈنی بارنز ہیں جنہوں نے 1901 سے 1904 تک 27 میچوں میں 189 وکٹیں حاصل کیں۔
،تصویر کا کیپشنورلڈ الیون کے لیے سلیکٹ کی گئی ٹیم میں آخری نمبر پر انگلینڈ کے سڈنی بارنز ہیں جنہوں نے 1901 سے 1904 تک 27 میچوں میں 189 وکٹیں حاصل کیں۔