بھارت کے مشرقی ساحلی علاقے سمندری طوفان سے متاثر ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنسمندری طوفان پائیلن بھارت کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیا ہے۔ ماہرین نے اسے انتہائی شدید درجے کا طوفان قرار دیا ہے اور اس کے نتیجے میں تین میٹر اونچی لہریں اٹھنے کا امکان ہے۔
،تصویر کا کیپشنطوفان کا اثر اس کے ساحل سے ٹکرانے سے کئی گھنٹے قبل ہی محسوس کیا جانے لگا جب ساحلی علاقوں میں شدید بارش شروع ہوئی اور انتہائی تیز ہوائیں چلنے لگیں۔
،تصویر کا کیپشنبارش اور تیز ہواؤں سے کئی مقامات پر درخت گر گئے جس سے ٹریفک کی روانی اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا عمل متاثر ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسمندری طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر بھارتی حکام نے اڑیسہ اور آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلا کا حکم دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشناب تک پانچ لاکھ افراد کو ساحلی اور نشیبی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے
،تصویر کا کیپشنمتاثرہ علاقوں سے منتقل کیے جانے والے افراد کو سرکاری عمارتوں میں رکھا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنمتاثرین کو حکومت اور امدادی اداروں کی جانب سے کھانا فراہم کیا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ اڑیسہ کے ساحلی علاقوں میں کسی بھی فرد کو کچے یا پتّوں اور جھاڑیوں سے بنے مکانات میں رہنے کی اجازت نہیں۔
،تصویر کا کیپشنطوفان کی راہ میں آنے والے علاقوں سے انخلا کے لیے حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جا رہی ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بھی علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنساحلی علاقوں کے ماہی گیر محفوظ مقامات تک جانے سے قبل اپنی کشتیوں کو بھی ہر ممکن حد تک محفوظ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنطوفان سے متاثرہ علاقوں میں بہت سے لوگوں کو عارضی نوعیت کے حفاظتی مکانات میں منتقل کر دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنطوفان سے متاثرہ علاقوں میں ہوائوں کی رفتار دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ رہی ہے
،تصویر کا کیپشنطوفان کے باعث امدادی اشیا کی قلت کی بھی اطلاعات ہیں