بلوچستان کے علاقوں آواران اور کیچ میں منگل کی شام آنے والے زلزلے سے ہونے والی تباہی کے مناظر۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں منگل کو آنے والے شدید زلزلے سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور حکام نے اب تک 270 سے زیادہ ہلاکتوں اور پانچ سو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق زلزلے سے آواران، کیچ، خاران، پنجگور،گوادر کے علاقے متاثر ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنزلزلے سے تین لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ امدادی ادارے کے حکام کے مطابق طبی سہولیات اور مقامی ہسپتالوں میں زخمیوں کے علاج کے لیے جگہ کی کمی کا سامنا ہے
،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں منگل کو زلزلے کے بعد ایک جزیرہ نموادر ہوا ہے۔مقامی ماہری گیروں کے مطابق اس طرح کا جزیرہ سنہ انیس سو پینتالیس، چھیالیس میں بھی زلزلے کے بعد نمودار ہوا تھا اور تقریباً ایک سال کے بعد غائب ہو گیا تھا
،تصویر کا کیپشناس جزیرے کو ساحل سے دیکھا جا سکتا ہے اور اونچائی تیس فٹ اور ایک سو میٹر لمبا ہے۔سمندری علوم کے ماہر عبدالرحیم کے مطابق مکران کی ساحلی پٹی میں مڈ والکینو یعنی مٹی کے آتش فشاں موجود ہیں اور جب زلزلے کے بعد میتھین گیس کا دباؤ بڑھتا ہے تو اس طرح کے جزیرے نمودار ہوتے ہیں
،تصویر کا کیپشنآواران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے متعدد دیہات میں مٹی سے بنے بیشتر مکانات زمیں بوس ہوگئے ہیں اور ہزاروں افراد نے رات کھلے آسمان تلے گزاری
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے جنوبی صوبوں سندھ اور بلوچستان اور بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی علاقوں میں منگل کی سہ پہر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت پاکستان کے جیولوجیکل سروے کے مطابق 7.7 تھی
،تصویر کا کیپشنیہ
زلزلہ زمین سے صرف دس کلومیٹر کی گہرائی میں آیا تھا اور اسی وجہ سے اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔زلزلے کے بعد کراچی میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد عمارتوں کو خالی کر کے سڑکوں پر آ گئی
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوج نے سب سے پہلے امدادی کارروائیاں شروع کیں کیونکہ صوبے میں جاری شورش کی وجہ سے یہ علاقے میں پہلے سے موجود تھی