چرچ پر خودکش حملہ

پشاور میں چرچ پر خودکش حملے کے بعد کے مناظر

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کوہاٹی گیٹ کے قریب ایک چرچ پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کا عمل اتوار کی رات بھر جاری رہا اور شہر کے تین قبرستانوں وزیر باغ، گورا قبرستان اور شریف آباد قبرستان میں 80 افراد کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کوہاٹی گیٹ کے قریب ایک چرچ پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کا عمل اتوار کی رات بھر جاری رہا اور شہر کے تین قبرستانوں وزیر باغ، گورا قبرستان اور شریف آباد قبرستان میں 80 افراد کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق لوگ عبادت کے بعد گرجا گھر سے باہر نکل رہے تھے کہ دھماکے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق لوگ عبادت کے بعد گرجا گھر سے باہر نکل رہے تھے کہ دھماکے ہوئے۔
پشاور کے ایس پی آپریشن نے بی بی سی کو بتایا کہ دو خودکش حملہ آوروں نے چرچ کے اندر مختلف مقامات پر اپنے آپ کو دھماکے سے اْڑایا۔
،تصویر کا کیپشنپشاور کے ایس پی آپریشن نے بی بی سی کو بتایا کہ دو خودکش حملہ آوروں نے چرچ کے اندر مختلف مقامات پر اپنے آپ کو دھماکے سے اْڑایا۔
زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنزخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔
ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق بم دھماکا اتوار کی صبح پشاور کے اندرونِ شہر کوہاٹی گیٹ کے قریب واقع چرچ میں ہوا۔
،تصویر کا کیپشنہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق بم دھماکا اتوار کی صبح پشاور کے اندرونِ شہر کوہاٹی گیٹ کے قریب واقع چرچ میں ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق جب یہ دھماکہ ہوا تو چرچ میں چار سے پانچ سو کے درمیان افراد موجود تھے۔
،تصویر کا کیپشنعینی شاہدین کے مطابق جب یہ دھماکہ ہوا تو چرچ میں چار سے پانچ سو کے درمیان افراد موجود تھے۔
ایس پی سٹی نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے جو چرچ کے گیٹ پر ڈیوٹی دے رہا تھا، جب کہ ایک دوسرا پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنایس پی سٹی نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے جو چرچ کے گیٹ پر ڈیوٹی دے رہا تھا، جب کہ ایک دوسرا پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔