برطانیہ میں افغان سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے ملالہ یوسف زئی کو افطار پارٹی میں مدعو کیا۔
،تصویر کا کیپشنملالہ لندن میں افغانیوں کی مہمان بنیں جہاں انہوں نے اپنی کہانی سناتے ہوئے اپنی اس مہم کا اعادہ کیا جو افغانیوں کے لیے بھی نئی نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشنلندن میں اس افطار پارٹی کا اہتمام افغان سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنملالہ نے ایک بار پھر بچوں کی تعلیم کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وہ اپنی تمام زندگی بچوں کی تعلیم کے لیے صرف کر دیں گی۔
،تصویر کا کیپشنانہوں نے کہا کہ میں سوات سے یہاں آئی ہوں اور دنیا بھر کے ان بچوں کی تعلیم پر بھی زور دیتی ہوں جو غربت، ناانصافی اور دہشت گردی کے سبب تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔
،تصویر کا کیپشنملالہ نے اپیل کی کہ ہمیں دنیا کے ہر ایک بچے کی تعلیم کے حق میں متحد ہو جانا چاہئیے۔
،تصویر کا کیپشنافغانی لوگوں میں بھی ملالہ ایک ہیرو تصور کی جاتی ہیں خاص طور پر وہ لوگ جنہیں ملالہ جیسے حالات کا سامنا ہے۔
،تصویر کا کیپشناس موقع پر شیڈو وزیرِ انصاف اینڈی سلاٹر نے ملالہ کی ڈائری کی بات کی جس کے سبب پشتون لڑکیوں میں تعلیم کے حوالے سے بیداری پیدا ہوئی۔
،تصویر کا کیپشنلندن میں افغان سفارت کار نے صدر حامد کرزئی کی ایک خط بھی ملالہ کو پیش کیا۔ اس خط میں صدر کرزئی نے ملالہ کو افغانستان مدعو کیا۔
،تصویر کا کیپشنلندن میں افغانستان کے سفارتکار نے ملالہ سے کہا کہ وہ ان ہزاروں افغان اور پاکستانی لڑکیوں کے لیے ایک مثال ہیں ماضی میں جن کی آواز نہیں سنی جا سکی۔
،تصویر کا کیپشنگزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں طالبان نے اس وقت ملالہ پر حملہ کیا تھا جب وہ سکول جا رہی تھیں۔ان کے سر میں گولی لگی تھی۔
،تصویر کا کیپشنملالہ کے والد ضٰیا الدین یوسفزئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملالہ کو کوئی خاص ٹریننگ نہیں دی اور انہیں ایک فردِ واحد سمجھا۔
،تصویر کا کیپشناس موقع پر ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس کا عنوان تھا ’ملالہ کون ہے‘۔
،تصویر کا کیپشناس موقع پر افغان سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نےملالہ کو ’ایجو کیشن ایکٹویسٹ ایوارڈ‘ سے بھی نوازا ۔