،تصویر کا کیپشنامریکی شہری مائیکل موس نے حال ہی میں افریقہ کے جنگلات میں دو شیرنیوں کی لڑائی کی تصاویر کھینچیں۔ یہ دونوں شیرنیاں مختلف پرائیڈز سے تعلق رکھتی تھیں اور دونوں ہی اپنے بچے بچانے کے لیے لڑ پڑیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ تصاویر جون میں جنوبی افریقہ کے مدیوے ریزرو میں کھینچی گئیں۔
،تصویر کا کیپشنشیر کے بچوں کو سب سے بڑا خطرہ شیروں ہی سے ہوتا ہے۔ شیر دوسرے شیر کے بچوں کو مارتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنایک شیرنی بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتی اسی لیے شیرنیاں ایک گروہ کی صورت میں بچوں کی حفاظت کرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکیلفورنیا سے تعلق رکھنے والے موس نویں بار جنوبی افریقہ کے مدیوی ریزرو گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنموس نے اس سے قبل اس قسم کی لڑائی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
،تصویر کا کیپشنموس کا کہنا ہے ’ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ آخر میں لڑائی کون جیتا۔ لیکن شیرنی اگر اس پرائیڈ کی نہیں ہے تو وہ دوسری شیرنی کے بچے مار سکتی ہے۔ اس لڑائی کے بعد دونوں شیرنیاں مختلف سمت میں روانہ ہوگئیں۔‘
،تصویر کا کیپشن’شیرنیوں کے درمیان یہ لڑائی کئی منٹ جاری رہی۔ میرے حساب سے دونوں شیرنیوں کو کوئی گہرے زخم نہیں آئے۔‘