،تصویر کا کیپشنتتلیوں کے شیدائیوں کو امید ہے کہ حالیہ گرمی کی لہر سے ان کیڑے مکوڑوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا جو گذشتہ مرطوب اور تیز ہوا کے باعث بہت کم ہو گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں تتلیوں کے تحفظ کے ادارے نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ 15 منٹ صرف کر کے یہ دیکھیں کہ ان کے مقامی علاقے میں تتلیوں کی کیا صورتِ حال ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں تتلیوں کی عام 19 انواع کے علاوہ ’تتلی شماری‘ کے دوران لوگوں سے دن کو اڑنے والے دو پتنگوں پر بھی نظر رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ سروے 20 جولائی سے 11 اگست تک جاری رہے گا۔
،تصویر کا کیپشناس سالانہ سروے کے سربراہ رچرڈ فاکس کہتے ہیں: ’برطانیہ میں نصف درجن نیلے رنگ کی تتلیاں پائی جاتی ہیں، لیکن ہولی بلُو نامی صرف یہی تتلی عام طور پر باغات میں پائی جاتی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنیہ سفید مرمریں تتلی صرف ملک کے جنوب میں پائی جاتی تھی تاہم حالیہ برسوں میں اس نے شمال کی طرف بڑھنا شروع کیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کو توقع ہے کہ سروے سے اس کی نقل و حرکت کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔
،تصویر کا کیپشن1970 کے بعد سے ’کچھوے کا خول‘ نامی اس تتلی کی تعداد میں شدید کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں اسے ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ دھبے دار تتلی جنگلوں، باغات اور جھاڑیوں والے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشن’کامن بلُو‘ نامی یہ تتلی برطانیہ اور آئرلینڈ میں بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشن’سمال کاپر‘ نامی یہ تتلی برطانیہ اور آئرلینڈ کے مختلف علاقوں میں ملتی ہے، اور کبھی کبھار باغوں کا بھی چکر لگا لیتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنخیراتی تنظیم کے صدر سر ڈیوڈ اٹین برو کہتے ہیں: ’تتلی شماری‘ سے ہمیں معلوم ہوگا کہ آیا گذشتہ بدترین سال کے بعد سے تتلیوں کی تعداد نے سنبھالا لیا ہے یا نہیں اور اب باغوں، کھیتوں، قصبوں اور شہروں میں ان کی کیا صورتِ حال ہے۔‘